حکایاتِ شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 22

حکایاتِ شیریں — Page 22

وعظ سے متاثر ہو کر ایک عورت نے اپنی پازیب اتار کر اس کو چندہ میں دیے دی۔جس پر مولوی صاحب نے کہا اسے نیک عورت کیا تو چاہتی ہے کہ تیرا دوسرا پاؤں روزخ میں جلے ؟ یہ سن کر اس نے فی الفور دوسری پازیب بھی اتار کر اسے دے رہی۔مولوی صاحب کی بیوی بھی اس وعظ میں موجود تھی اس کا اس پر بھی بڑا اثر ہوا اور جب مولوی صاحب گھر میں آئے تو دیکھا کہ ان کی عورت روتی ہے اور اس نے اپنا سارا زیور مولوی صاحب کو دے دیا کہ اسے مسجد میں لگا دو مولوی صاحب نے کہا کہ تو کیوں ایسا روتی ہے یہ تو صرف پندہ کی تجویز تھی اور کچھ نہ تھا۔یہ باتیں سنانے کی ہوتی ہیں کرنے کی نہیں ہو تیں اور کہا کہ اگر ایسا کام ہم نہ کریں تو گزارہ نہیں ہوتا۔انہیں کے متعلق یہ مضرب المثل ہے : و اعطاں کی حلوہ بر محراب و منبر می کنند چوں بخلوت سے روند آن کار دیگرے مے کنند - د یہ واقعہ ملفوظات جلد ششم ص ۲۶۵ - ۲۶۴ اور جلد پنجم ص ۳۱ تفاصیل کے فرق سے درج ہے۔یہاں پر اس واقعے کی تفاصیل کو یکجا کر دیا گیا ہے ،