حکایاتِ شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 22

حکایاتِ شیریں — Page 8

الحمر ۱۲ خدا کے بندوں پر رحم شیخ سعدی لکھتے ہیں کہ ایک بادشاہ کو ناروا کی بیماری تھی ۔ اس نے کہا کہ میرے لیے دعا کریں کہ اللہ کریم مجھے شفا بخشتے تو میں نے جواب دیا کہ آپ کے جیل خانہ میں ہزاروں بے گناہ قید ہوں گے ان کی بد دعاؤں کے مقابلہ میں میری دعاکب دعا کب سنی جا سکتی ہے ۔ نب اس نے قیدیوں کو رہا کر دیا اور پھر وہ تندرست ہو گیا۔ غرض خدا کے بندوں پر اگر رحم کیا جائے تو خدا بھی رحم کرتا ہے۔ ( ملفوظات جلد نهم صفحه (۳۶۹) پوستی کی حکایت مجھے ایک پوستی کی بہ بیت یاد آئی ۔ وہ یہ ہے کہ ایک یوستی کے پاس ایک ٹوٹا تھا۔ اور اس میں ایک سوراخ تھا۔ حسب رفع حاجت کو نباتا۔ اس سے پیشتر کہ وہ فارغ ہو کہ طہارت کرلے ۔ سارا پانی ہونٹ سے نکل جاتا تھا آخر کئی دن کی سوچ اور فکر کے بعد اس نے یہ تجویز نکالی کہ پہلے طہارت ہی کر لیا کریں اور اپنی اس تجویز پر بہت ہی خوش ہوا۔ اسی قسم کا نکتہ اور نسخہ ان کو ملا ہے۔ ( ملفوظات جلد اول صفحه ۱۷۷) حق دوستی چوری ۔۔۔۔۔ ایک بری صفت ہے لیکن اگر اپنے دوستوں کی چیند بلا اجازت استعمال کر لی جاوے تو معیوب نہیں (بشرطیکہ دوست ہوں) تو د کی دو شخصوں میں باہمی دوستی کمال درجہتی تھی اور ایک دوسرے کا محسن تھا۔ اتفاقاً ایک شخص سفر پر گیا ۔ دوسرا اس کے بعد اس ایک شخص سفر پر کیا ۔ دو سرا اس کے کے گھر میں آیا اور اس کی کنیز سے دریافت کیا کہ میرا دوست کہاں ہے اس نے آیا سے کہ میرا ہے کہا کہ سفر کو گیا ہے پھر اس نے پوچھا کہ اس کے روپیہ والے صندوق ہا کہ سفر نے کہ اس کے کی چابی تیرے پاس ہے ؟ کینز نے کہا کہ میرے پاس ہے ۔ اس نے کینر سے وہ صندوق منگوا کر چابی لی اور خود کھول کر کچھ روپے اس میں سے لے گیا جب صاحب خانہ سفر سے واپس آیا تو کنیز نے کہا کہ آپ کا دوست گھر میں آیا تھا۔ یہ سن کر صاحب خانہ کا رنگ زرد ہو گیا اور اس نے پوچھا کہ کیا کہتا تھا ۔ کنیز نے کہا کہ اس نے مجھ سے صندوق اور چابی منگوا کر خود آپ کا روپیہ والا صندوق کھولا اور اس میں سے روپیہ نکال کر لے گیا۔ پھر تو وہ صاحب خانہ اس کنیز پر اس قدر خوش ہوا کہ بہت