حکایاتِ شیریں — Page 21
۳۹ ۳۸ رو ہنر مندی کا اعلی ترین نمونہ ایک بادشاہ نے ایک نہایت اعلیٰ درجہ کے کاریگر سے کہا کہ تم اپنے ہنر اور کمال کا مجھے نمونہ دکھاؤ اور نمونہ بھی ایسا نمونہ ہو کہ اس سے زیادہ تمہاری طاقت میں نہ ہو گویا اپنے انتہائی کمال کا نمونہ ہمارے سامنے پیش کرو اور پھر اس بادشاہ نے دوسر اعلیٰ درجہ کے کاریگر سے کہا کہ تم بھی اپنے کمال کا اعلیٰ ترین نمونہ بنا کر پیش کرو۔ اور ان دونوں کے درمیان اس بادشاہ نے ایک جا بحال کر دیا کاریگر نبرا ان دونوں کے درمیان اس بادشاہ نے ایک حجاب حائل کر دیا ۔ کاریگر نمبر اول نے ایک دیوار بنائی اور اس کو نقش و نگار سے اتنا آراستہ کیا کہ بس حد کردی اور دیوار اعلیٰ ترین انسانی کمال کا نمونہ تیار کیا۔ اور دوسرے کا ریگر نے ایک دیوار بنائی مگر نمونہ تیار اور ریگرتے اس کے اوپر کوئی نقش ونگار نہیں کیے لیکن اس کو ایسا صاف کیا اور چمکایا کہ ایک صفا شیشے سے بھی اپنے صیقل میں وہ بڑھ گئی ۔ پھر بادشاہ نے پہلے کاریگر سے کہا کہ اپنا نمونہ پیش کرو ۔ چنانچہ اس نے وہ نقش و نگار سے مزین دیوار پیش کی اور سب دیکھنے والے اسے دیکھ کر دنگ رہ گئے ۔ پھر بادشاہ نے دوسرے کاریگر سے کہا کہ اب تم اپنے کمال کا نمونہ پیش کرو ۔ اس نے عرض کیا کہ حضور یہ حجاب درمیان سے اٹھا دیا جاوے ۔ چنانچہ بادشاہ نے اسے اٹھوا دیا تو لوگوں نے دیکھا کہ بعینہ اسی قسم کی دیوار جو پہلے کاریگر نے تیار کی تھی دوسری طرف بھی کھڑی ہے کیونکہ درمیانی حجاب اٹھ جانے سے اس دیوار سب نقش و نگار بغیر کسی فرق کے اس دوسری دیوار پہ ظاہر ہو گئے ۔ اسيرة المہدی جلدا صفحه ۲۹۱ ، ۲۹۲) خدا کسی کی نیکی ضائع نہیں کرتا سے ہمیں اس خدا کی ہی پرستش کرنی چاہیے جو کہ ذرا سے کام کا بھی اجر دیتا ہے ۔ خدا وہ ہے کہ انسان اگر کسی کو پانی کا گھونٹ بھی دیتا ہے تو وہ خداوہ ہے کہ اگر کسی کو کا ؟ اس کا بھی بدلہ دیتا ہے دیکھو ایک عورت جنگل میں جا رہی تھی رستہ ہیں اس نے ایک پیاسے کتے کو دیکھا اس نے اپنے بالوں کا رشتہ بنا کر کنویں پانی کھینچ کر اس کتے کو پلایا جس پر رسول کریم پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے عمل کو قبول کر لیا ہے وہ اس کے نے م گناہ بخش دے گا۔ اگرچہ وہ تمام عمر فاسقہ رہی ہے۔ ( ملفوظات جلد ششم (۲) تمام " مولوی صاحب کا وعظ اور عمل مولویوں کی طرف دیکھو کہ دوسروں کو وعظ کرتے اور آپ کچھ عمل نہیں کرتے اسی لیے اب ان کا کسی قسم کا اعتبار نہیں رہا ہے ۔ ایک مولوی کا ذکر ہے کہ اس نے ایک مسجد کا بہانہ کر کے ایک لاکھ روپیہ جمع کیا۔ ایک جگہ وہ وعظ کر رہا تھا ۔ سامعین میں اس کی بیوی بھی موجود تھی ۔ صدقہ و خیرات اور مغفرت کا وعظ اس نے کیا۔ اس کے