حکایاتِ شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 22

حکایاتِ شیریں — Page 20

۳۷ ۳۶ " امیروں کا حال امیروں کا تو یہ حال ہے کہ پنکھا چل رہا ہے ۔ آرام سے بیٹھے ہیں خدمتگار چائے لایا ہے اگر اس میں ذرا سا بھی قصور ہے خواہ میٹھا ہتی کم یا زیادہ ہے تو غصہ سے بھر جاتے ہیں خدمت گار پر ناراض ہوتے ہیں بہت غصہ ہو تو مارنے لگ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ حالانکہ جیسے وہ خدمتگار انسان ہے اور اس سے غلطی اور بھول ہو سکتی ہے ۔ ویسے ہی وہ (امیر) بھی انسان ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ایک بات یاد آئی ہے کہ ہارون الرشید کی ایک کنیز تھی ۔ ایک دن اس نے بادشاہ کا بستر جو کیا تو اسے گد گدا اور ملائم اور پھولوں کی خوشبو سے بسا ہوا یا کہ اس کے دل میں آیا کہ ہیں بھی لیٹ کر دیکھوں تو سہی اس میں کیا آرام حاصل ہوتا ہے ۔ وہ لیٹی تو اسے نیند آگئی ۔ جب بادشاہ آیا تو اسے ہوتا پا کر ناراض ہوا اور تازیانہ کی سزادی ۔ وہ کنیز روتی بھی جاتی اور ہنستی بھی جاتی ۔ بادشاہ نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ روتی تو اس لیے ہوں کہ ضربوں سے درد ہوتی ہے اور ہنستی اس لیے ہوں کہ میں چند لمحہ اس پر سوئی تو مجھے یہ سرا ملی اور جو اس پر ہمیشہ سوتے ہیں ان کو خدا معلوم کس قدر عذاب بھگتنا پڑے گا ۔ ( ملفوظات جلد هفتم ص ۱۱۵) محبت کی نظر اور عداوت کی نظر کا فرق سلطان محمود سے ایک بزرگ نے کہا کہ جو کوئی مجھ کو ایک دفعہ دیکھ لیوے به دوزخ کی آگ حرام ہو جاتی ہے۔ محمود نے کہا یہ کام تمہارا نغمہ خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہے ۔ ان کو کفار ابو لہب، ابو جہل وغیرہ صلی علیہ کر ۔ ان ابولہب ابو وغیرہ نے دیکھا تھا ان پر دوزخ کی آگ کیوں حرام نہ ہوئی اس بزرگ نے کہا اسے بادشاہ کیا آپکو علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ينظرون اليك وهم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا يبصرون اگر دیکھا اور چھوٹا کا ذب سمجھا تو کہاں دیکھا ؟ دیکھنے والا اگر محبت اور اعتقاد کی نظر سے دیکھتا ہے تو ضرور اثر ہو جاتا ہے اور جو عداوت اور دشمنی کی نظر سے دیکھتا ہے تو اسے ایمان حاصل نہیں ہوا کرتا " ( ملفوظات جلد ششم صدا) دو میں سے ایک ہے نہیں ایک نقل مشہور ہے کہ کسی عورت کی دو لڑکیاں تھیں ایک بیٹ میں بیاہی ہوئی تھی اور دوسری بانگر ہیں اور وہ یہ ہمیشہ یہ سوچتی رہتی تھی کہ دو میں سے ایک ہے نہیں اگر بارش زیادہ ہو گئی تو بیٹ والی نہیں اور اگر نہ ہوئی تو بانگر والی نہیں یہی حال حکم کے آنے پر ہونا چاہیئے (ملفوعا تعلیم علمی