حکایاتِ شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 22

حکایاتِ شیریں — Page 18

۳۲ ساسم نہیں چھوڑتا تو اسے خیال گزرا کہ شاید تین حصے اس کے ہوں اور ایک حصہ میرا ہو ۔ اس لیے اس نے ایک روٹی اور ڈال دی مگر کتا وہ روٹی ۔ پر غصہ آیا اور کہا تو تو بڑا بد ذات میں سے کانٹا اٹھایا ۔ اس نے کہا بس یہی تو ہے جس کی وجہ سے تو جادو کھا کر بھی واپس نہ نے ضرور کوئی بھلائی کی ہے۔ جس کی وجہ سے تو نے جادو نہیں سیکھا اس نے کہا کہ میں نے کوئی اچھا کام نہیں کیا سوائے اس کے کہ راستہ کہ کیا نہ سیکھ سکا ۔ تب وہ بولا خدا تعالیٰ کی بڑی مہر بانیاں ہیں کہ اس نے ۔ وہ بولا خدا تعالی کی بڑی مہربانیاں ہیں کہ ذرہ سی نیکی کے بدلہ بڑے بھاری گناہ سے بچا لیا۔ ( ملفوظات جلد ششم صد ۲۶) وفاداری کا سبق کتے سے سیکھو لکھا ہے کہ ایک یہودی مشرف بہ اسلام ہوا۔ کچھ دن بعد موصیبت کا سامنا ہوا اور تھو کا مرنے لگا اور فاقے پر فاقہ آنے لگا۔ تو کسی بھی ہے مانگ کر میں چار روٹیاں لایا تھا مگر ان میں سے تین کھا کر تو پیچھا نہیں چھوڑتا۔ خدا تعالٰی نے اس وقت کتے کو بولنے کیلئے زبان دے دی تب کتے نے جواب دیا کہ میں بدذات نہیں ہوں ۔ میں خواہ ے دہی ادارے نے جواب دیا کہ میں بات نہیں ہوں ۔ میں خو کتنے فاقے اٹھاؤں مگر مالک کے سوائے دوسرے گھر پر نہیں جاتا۔ بدذات تو تو ہے جو دو تین فاقے اٹھا کر ہی کا کر کے گھر مانگنے کیلئے آگیا۔ تب وہ مسلمان یہ جواب سن کر اپنی حالت پر بہت پشیمان ہوا۔ ) ملفوظات جلد نهم صفی ۴۵۰) یہودی کے مکان پر بھیک مانگنے کیلئے گیا ۔ یہودی نے اس نو مسلم کو کیمیا کے لالچ کے نقصانات کو چار روٹیاں دیں ۔ جبہ، وہ روٹیاں لے کر جارہا تھا تو ایک کتا بھی اس کے پیچھے ہو لیا ۔ اس شخص نے یہ خیال کر کے کہ شاید ان روٹیوں بہت سے لوگ کیمیائی فکر میں لگے رہتے ہیں اور عمر کو ضائع کرتے میں سے کتنے تھا بھی کچھ حصہ ہے ۔ ایک روٹی کتنے کے آگے پھینک دی ہیں اور بجائے اس کے کہ کچھ حاصل کریں جو کچھ پاس ہوتا ہے اس کو بھی بھی اور آگے چل دیا کہ اس روٹی کو جلدی جلدی کھا کر پھر پیچھے پیچھے ہو لیا۔ تب اس نے خیال کیا کہ شاید ان روٹیوں میں سے نصف حصہ کتنے کا ہو ۔ تب اس نے ایک اور روٹی کتنے کے آگے پھینک دی ۔ مگر کتا اس کو کھا کر پیچھے پیچھے چل دیا ۔ پھر اس نے جب معلوم کیا کہ کتا پیچھا ا کھو دیتے ہیں ۔ ایک شخص بٹالہ کا رہنے والا تھا جو کہ کسی قدر غربت سے گزارہ کرتا تھا اور اس نے جو مکان رہائش کے لیے بنایا تھا اس کے باہر کی ایک ایک اینٹ تو پکتی تھی اور باقی اندر سے کچا تھا۔ ایک دن اسے ایک فقیر ملا جو بہت وظیفہ پڑھتا رہتا تھا اور ظاہراً نہایت