حکایاتِ شیریں — Page 16
۲۹ " بدی نہ کرنے کا احسان نقلی فقیر کی عزت مجھے ایک مثال کسی نے سنائی تھی اور وہ صحیح ہے کہتے ہیں ایک شخص کہتے ہیں کہ ایک گیر چالیس سال تک ایک جگہ آگ پر بیٹھا رہا اور اس نے کسی کی دعوت کی اور بڑے تکلف سے اس کی تواضع کی۔جب وہ کھانے کی کی پرستش میں مصروف رہا۔چالیس سال کے بعد جب وہ اٹھا تو لوگ اس سے فراغت پا چکا تو اس سے نہایت عجز و انکسار سے میزبان نے کہا کے پاؤں کی مٹی آنکھ میں ڈالتے تھے تو ان کی آنکھ کی بیماری اچھی ہو جاتی کہ میں آپ کی شان کے موافق حق دعوت ادا نہیں کر سکا۔آپ مجھے معاف فرما ئیں تھی۔اس بات کو دیکھ کر ایک صوفی گھیرایا۔اور اس نے سوچا کہ جھوٹے مہمان نے سمجھا کہ گویا اس طرح پیر احسان جتاتا ہے۔اس نے کہا میں کو یہ کرامت کس طرح سے مل گئی اور وہ اپنی حالت میں مذبذب ہو گیا سایز نے بھی آپ کے ساتھ بڑی نیکی کی ہے۔اسے تم یاد نہیں رکھتے۔اس اس پر طائف کی آواز اسے پہنچی جس نے کہا تو کیوں گھر آتا ہے سوچ کر نے کہا وہ کون سی نیکی ہے ؟ تو کہا کہ جب تم مہمانداری میں مصروف جب جھوٹے اور گمراہ کی محنت کو خدا تعالیٰ نے ضائع نہیں کیا تو جو نیچا تھے تو میں تمہارے گھر کو آگ لگا سکتا تھا۔مگر میں نے کس قدر احسان اس کی طرف جائے گا اس کا کیا درجہ ہوگا ؟ اور اس کو کس قدر انعام کیا ہے کہ آگ نہیں لگائی یہ بدی کی مثال ہے گویا آگ لگا کر خطر ناک نقصان ( مفوظات تبلد نهم ص ۲۲۷۰۲۷) نہیں کیا۔بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بدی نہ کرنے کا احسان جتاتے ہیں۔ایسے لوگ حیوانات کی طرح ہیں۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قدر وہی لوگ ہیں جو باری سے پر ہیز کر کے ناز نہیں کرتے بلکہ نیکی کر کے بھی کچھ نہیں „ سما ( ملفوظات جلد هشتم صفحه ۳۷۸) ملے گا۔تواضع تو اصنع اور مسکنت عمدہ شے ہے جو شخص باو نبود محتاج ہونے کے تکبر کرتا ہے وہ کبھی مراد کو نہیں پاسکتا اس کو چاہیے کہ عاجزی اختیار کرے کہتے ہیں کہ جالینوس حکیم ایک بادشاہ کے پاس ملازم تھا۔بادشاہ کی عادت تھی کہ ایسی روی چیزیں کھایا کرتا تھا جس سے جالینوس کو