حکایاتِ شیریں — Page 15
۳۷ سے کیا کام وہ تو بیرون از شمار یاد کرے گا۔ایک عورت کا قصہ مشہور ہے کہ وہ کسی پر عاشق تھی اس نے ایک فقیر کو دیکھا کہ وہ تسبیح ہاتھ میں لیے ہوئے پھر رہا ہے۔اس عورت نے اس سے پوچھا کہ تو کیا کر رہا ہے۔اس نے کہا میں اپنے یار کو بیاد کرتا ہوں۔عورت نے کہا کہ یار کو یاد کرنا اور پھر گن گن کر ؟ تم نے سمجھا ہے بالکل درست ہے مگر میں نے قوت مجاہدہ سے اپنے۔اخلاق کی اصلاح کرلی ہے اس پر قلاطون نے ملاقات کی اجازت دے دی پس خلق ایسی شے ہے جس میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔! ملفوظات جلد مفتم صد ۱۳۹ ہو در حقیقت یہ بات بالکل سچی ہے کہ یار کو یاد کرتا ہو تو پھر گرنے ایک پرندے کی مہمان نوازی گن کر کیا یا د کرنا ہے اور اصل بات یہی ہے کہ جب تک ذکر الہی کثرت سے نہ ہو۔وہ لذت اور ذوق جو اس ذکر میں رکھا گیا ہے حاصل نہیں ہوتا۔) ملفوظات جلد هفتم صفحه ۱۹ ) خلق میں تبدیلی ممکن ہے ذکر کرتے ہیں کہ افلاطون کو علم فراست میں بہت دخل تھا۔اور اس کے دروازہ پر ایک دربان مقرر کیا ہوا تھا جسے حکم تھا کہ جب کوئی شخص ملاقات کو آوے تو اول اس کا حیر بیان کرو اس حلیہ کے ذریعہ وہ اس کے اخلاق کا حال معلوم کرکے پھر اگر قابل ملاقات سمجھتا تو ملاقات کرتا ورنہ رد کر دیتا۔ایک دفعہ ایک شخص اس کی ملاقات کو آیا دربان نے اطلاع دی۔اس کے نقوش کا حال سن کر افلاطون نے ملاقات - انکار کر دیا۔اس پر اس شخص نے کہلا بھیجا کہ افلاطون سے کہہ دو کہ تو کچھ ایک پرندے کی مہمان نوازی پر ایک حکایت ہے کہ ایک درخت کے نیچے ایک مسافر کو رات آگئی جنگل کا ویرانہ اور سردی کا موسم۔درخت کے اور یہ ایک پرندے کا آشیانہ تھا۔نرومادہ آپس میں گفتگو کرنے لگے کہ یہ ریب الوطن آج ہمارا مہمان ہے اور سردی زدہ ہے اس کے واسطے ہم کیا کریں ؟ سوچ کر ان میں یہ صلاح قرار پائی کہ ہم اپنا آشیا نہ توڑ کر نیچے پھینک دیں اور وہ اس کو بلا کر آگ تا پے۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ یہ بھوکا ہے اس کے واسطے کیا دعوت تیار کی جائے اور تو کوئی چیز موجود نہ تھی۔ان دونوں نے اپنے آپ کو نیچے اس آگ میں گرا دیا تا کہ ان کے گوشت کا کباب ان کے مہمان کے واسطے رات کا کھانا ہو جائے اس طرح انہوں نے مہمان نوازی کی ایک نظیر قائم کی۔د ملفوظات جلد شتم صفحه ۲۸۲)