حکایاتِ شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 22

حکایاتِ شیریں — Page 14

۲۵ ۲۴ پر موصوف نے فرمایا وَ فِي السَّمَاءِ رِزْقَكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ تمہارا رزق فِي آسمان پر موجود ہے ۔ تم خدا یہ بھروسہ کرو اور تقویٰ اختیار کرو چوری چھوڑ دو ۔ خدا تعالیٰ خود تمہاری ضرورتوں کو پورا کر دے گا ۔ چور کے دل اثر ہوا ۔ اس نے بزرگ موصوف کو چھوڑ دیا اور ان کی بات پر عمل کیا۔ یہاں تک کر اسے سونے چاندی کے برتنوں میں عمدہ عمدہ کھانے ملنے لگے وہ کھانے کھا کہ برتنوں کو جھوپڑی کے باہر پھینک دیتا ۔ اتفاق پھر وہی بزرگ کبھی ادھر سے گزرے تو اس چور تے جواب بڑا نیک بخت اور منتقی ہو گیا تھا ۔ اس بزرگ سے ساری کیفیت بیان کی اور کہا کہ مجھے اور آیت بتلاؤ تو بزرگ موصوف نے فرمایا کہ فی السماء والارض انه الحق - یہ پاک الفاظ سن کر اس پر ایسا اللہ ہوا کہ خدا تعالٰی کی عظمت اس کے دل پر بیٹھ گئی پھر تڑپ اٹھا اور اسی میں جان دیدی پیس اے عزیز تم نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرنے سے کیا گیا نعمتیں ملتی ہیں اور تقوی اختیار کرنے سے کیسی دولت ملتی ہے ۔ غور کر کے دیکھو وہ خدا تعالیٰ جو زمین و آسمان کے رہنے والوں کی پرورش کرتا ہے ۔ کیا اس کے ہونے میں کوئی شک و شبہ ہو سکتا ہے ۔ وہ پاک اور سچا خدا ہی ہے جو ہم تم سب کو پالتا پوستا ہے۔ پس خدا ہی سے ڈرو۔ اسی پر بھروسہ کرو اور نیکی اختیار کرو » " (سيرة مسیح موعود جلد اول ص ۱۵۶) " امراء عبادت نہیں کر سکتے کوئی شخص نواب تھا۔ صبح کو نماز کے لیے نہیں اٹھتا تھا۔ ایک موادی نواب تھا۔ جن کو نمازکے لیے اٹھا تھا۔ ایک ہوں نے اسے وعظ سنایا۔ اس پر نواب نے اپنے خادم کو کہا کہ مجھ کو صبح کو و سنایا۔ اس پر نواب نے اپنے نام کو کہا کہ مجھ وہ کو اٹھا دینا ۔ خادم نے دو تین مرتبہ اس کو جگایا ۔ جب ایک مرتبہ جگایا تو ۔ دو ۔ اس نے دوسری طرف کروٹ بدل لی ۔ جب دوبارہ اس طرف ہو کر جگایا پھر اور طرف ہو گیا۔ جب تیسری مرتبہ جگایا تو اس نے اٹھ کر اس کو خوب مارا اور کہا کم بخت جب ایک مرتبہ نہیں اٹھا تو تجھے معلوم نہ ہوا با اور کہا کہ جب ایک مربہ نہیں اٹھا تو تجھے نہ کہ ابھی نہ اٹھوں گا پھر کیوں جگایا ؟ اور اتنا مارا کہ وہ بے چارہ بیہوش ہو گیا ۔ آپ ہی تو مولوی سے وعظ سن کر اس کو کہا تھا کہ مجھ کو اٹھا دیتا ۔ پھر جب اس نے جگایا تو اس بے چارے کی شامت آگئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس کے پاس بہت سا حصہ جاگیر کا ہوتا ہے وہ ایسے غافل ہو جاتے ہیں کہ حق اللہ کا ان کو خیال نہیں آتا ۔ امراء میں بہت ساحصہ تکبر کا ہوتا ہے جس کی وجہ سے عبادت نہیں کر سکتے ( ملفوظ جلد میر ) یار کو یاد کرنا اور گن گن کر جو شخص اللہ تعالی کو پیچھے ذوق اور لذت سے یاد کرتا ہے اسے شمار