حکایاتِ شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 22

حکایاتِ شیریں — Page 12

۲۱ ۲۰ اپنے آپکو بیچ دو حضرت موسی علیہ السلام کو ایک نوجوان نے کہا کہ مجھے جانوروں کی بولیاں آ جائیں تو میں ان سے عبرت حاصل کر لیا کروں ۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ عبرت اور بیداری خدا کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی اس خیال کے چھوڑ دو۔ اس میں خطرہ ہے ۔ مگر حضرت موسیٰ کے منع کرنے سے دور اس میں ہے مگر حضرت سی سی کے ان کی نیکی ہے اس کو اور بھی شوق پیدا ہوا ۔ اور بڑی التجا کی حضرت موسی نے کہا کہ کو اور ۔ حضرت کہا کہ اس شخص کو شیطان نے غریب دیا ہے اگر اس کو سکھاتا ہوں تو اس کو نقصان ہوگا ۔ وہ نہ اسے بدگمانی ہوگی ۔ حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے کہا اچھا اسے سکھا دو ۔ غرض حضرت موسی نے اس کو کتے اور مرغ کی زبان سے واقف کر کر دیا ۔ ۔ دوسرے دن تجربہ کیلئے اس نے کتے اور مرغ کی آواز کی طرف توجہ کی ۔ لونڈی نے دستر خوان جو جھاڑا تو رات کے ۔ P () دوسرے دن پھر ایسا ہی اتفاق ہوا ۔ مرغ نے وہ ٹکڑے کھا لیے اور کتے سے پھر سوال و جواب ہوا تو مرغ نے کہا کہ گھوڑا تو بے شک مر گیا ہے مگر دوسری جگہ جا کر کیونکہ اس نے بیچ دیا تھا۔ خیر کوئی فکر کی بات نہیں اب کل اونٹ مر جائے گا اور تمہاری عید ہو جائے گی۔ اس شخص نے اونٹ کو بھی بیچ دیا ۔ تیسرے دن پھر دونوں میں وہی مکالمہ ہوا اور کتے نے اس کو الزام دیا۔ مگر مرغ نے پھر وہی جواب دیا کہ اونٹ بھی اس نے بیچ دیا ہے اور وہ دوسری جگہ جا کر فوت ہو گیا ہے ۔ خیر کوئی بات نہیں اب کل اس کا غلام پر جائے گا۔ تو اس کی وفات پر کتوں اور عزیزوں کو نان ملیں گے ۔ اس شخص نے غلام کو بھی بیچ دیا ۔ اب وہ مرغ اس کتے کے سامنے چوتھے دن بہت ہی شرمندہ ہوا ۔ مرغ نے کہا یہ مت خیال کر دن ہی ہوا۔ یہ خیال لہ میں نے جھوٹ کہا جو کچھ میں نے خبر دی تھی وہ بالکل درست ہماری قوم تو بڑی راستباز ہے اور وقت کی نگران ہے اگر ہم کو بند بھی کیا ہوا ہو تب بھی ٹھیک وقت پر ہم اذان دیتے ہیں خیر جو کچھ بھی ہو گیا ہو گیا اب کل یہ خود مرے گا اور خوب تمہاری عید ہوگی ۔ اگر یہ شخص ۔ یہ گھوڑے یا اونٹ یا غلام کی پرواہ نہ کرتا تو آپ بچ جاتا۔ مگر اس نے بچے ہوئے ٹکڑے اس میں سے گرے مرغ نے جھوٹ وہ اٹھا کر کھا لیے کیا ہوا وقت پر ہم اذان دیتے ہیں خیر جو بھی ہو کتے نے اس کو کہا تو نے مجھ پر بڑا ظلم کیا تو تو دانے وغیرہ کھا سکتا ہے میں نہیں کھا سکتا ہوں مرغ نے اس کو کہا تو غم نہ کر تجھ کو تو ان ٹکڑوں سے بہتر ملنے والا ہے ۔ خواجہ صاحب کا گھوڑا مر جائے گا وہ گوشت سوائے کتوں کے اور کس کے کام آئے گا۔ اس نوجوان نے جب اس مکالمہ کو سنا تو جھٹ اس نے گھوڑا بیچ دیا اور اس نقصان سے وہ بچ گیا い مال کی پروا کی اور اپنی جان کی پر واہ نہ کی ۔ درویش جو ریاضت کرتے ہیں اس ریاضت سے انکی روحانی زندگی بڑھتی ہے ۔ غرض اس مرغ نے نہایت عمدہ رنگ میں اس مضمون یہ بحث کی اور بتایا کہ کس طرح انسان بلاؤں سے بچ سکتا ہے ۔ اس شخص نے چونکہ