حکایاتِ شیریں — Page 20
۳۷ امیروں کا حال " امیروں کا تو یہ حال ہے کہ پنکھا چل رہا ہے۔آرام سے بیٹھے ہیں خدمتگار چائے لایا ہے اگر اس میں ذرا سا بھی قصور ہے خواہ میٹھا ہی کم یا زیادہ ہے تو غصہ سے بھر جاتے ہیں خدمت گار پر ناراض ہوتے ہیں بہت غصہ ہو تو مارنے لگ جاتے ہیں۔۔۔۔۔حالانکہ جیسے وہ خدمتگار انسان ہے اور اس سے غلطی اور بھول ہو سکتی ہے۔ویسے ہی وہ (امیر) کبھی انسان ہے۔۔۔۔۔۔مجھے ایک بات یاد آئی ہے کہ ہارون الرشید کی ایک کنیز تھی۔ایک دن اس نے بادشاہ کا بستر جو کیا تو اسے گد گدا اور ملائم اور پھولوں کی خوشبو سے بسا ہوا پا کر اس کے دل میں آیا کہ میں بھی لیٹ کر دیکھوں تو سہی اس میں کیا آرام حاصل ہوتا ہے۔وہ لیٹی تو اسے نیند آگئی۔جب بادشاہ آیا تو اسے سوتا پا کر ناراض ہوا اور تازیانہ کی سزا دی۔وہ کنیز روتی بھی جاتی اور سہنستی تھی جاتی۔بادشاہ نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ روتی تو اس لیے ہوں کہ ضربوں سے درد ہوتی ہے اور مہنتی اس لیے ہوں کہ میں چند لمحہ اس پر سوئی تو مجھے یہ سرالی اور جو اس پر ہمیشہ سوتے ہیں ان کو خدا معلوم کس قدر عذاب بھگتنا پڑے گا۔) ملفوظات جلد هفتم مث ) محبت کی نظر اور عداوت کی نظر کا فرق سلطان محمود سے ایک بزرگ نے کہا کہ جو کوئی مجھ کو ایک دفعہ دیکھ لیونے اس پر دوزخ کی آگ حرام ہو جاتی ہے۔محمود نے کہا یہ کلام تمہارا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہے۔ان کو کفار ابو لہب ، ابو جہل وغیرہ نے دیکھا تھا ان پر دوزخ کی آگ کیوں حرام نہ ہوئی اس بزرگ نے کہا ایسے بادشاہ کیا آپکو علمہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ينظرون اليك وهم لا ببصرون اگر دیکھا اور جھوٹا کا ذب سمجھا تو کہاں دیکھا ؟۔دیکھنے والا اگر محبت اور اعتقاد کی نظر سے دیکھتا ہے تو ضرور اثر ہو جاتا ہے اور جو عداوت اور دشمنی کی نظر سے دیکھتا ہے تو اسے ایمان حاصل نہیں ہوا کرتا " ( ملفوظات جلد ششم صدا) دو میں سے ایک ہے نہیں ایک نقل مشہور ہے کہ کسی عورت کی دو لڑکیاں تھیں ایک سیٹ میں بیاہی ہوئی تھی اور دوسری بانگر ایں اور وہ یہ ہمیشہ یہ سوچتی رہتی تھی کہ دو میں سے ایک ہے نہیں اگر بارش زیادہ ہو گئی تو بیٹ والی نہیں اور اگر نہ ہوئی تو با نگر والی نہیں یہی حال حکم کے آنے پر ہونا چاہیئے (ملفوظات الیتیم ملی