عَلیٰ دِیْنِ وَّاحِدٍ : حکم اور عدل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 38

عَلیٰ دِیْنِ وَّاحِدٍ : حکم اور عدل — Page 21

عَلَى دِينِ وَاحِدٍ: حکم اور عدل خطبه جمعه بیان فرموده ۲۸ اگست ۲۰۲۰ اس پر گند اذہن مولوی جو ہیں یہ اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ آپ نے لکھا ہے کہ حضرت فاطمہ نے میرا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔بچے سے ایک ماں کی محبت کا اظہار جو ہوتا ہے یہ تو اس کا بیان ہو رہا ہے لیکن ان گندے ذہنوں کو کیا کہے کوئی۔اور عامتہ المسلمین ان کی باتیں سن کے سمجھتے ہیں کہ حضرت فاطمتہ الزہرا کی نعوذ باللہ ہتک کر دی حالانکہ آگے جاکے اس کی مزید وضاحت بھی ہو جائے گی کہ آپ فرما رہے ہیں کہ کس طرح آپ ایک ماں کا سلوک مجھ سے کر رہی ہیں۔بہر حال پھر آپ فرماتے ہیں پھر مجھے بتایا گیا کہ دین کے تعلق میں ان کے نزدیک یعنی حضرت فاطمہ کے نزدیک میری حیثیت بمنزلہ بیٹے کے ہے اور میرے دل میں خیال آیا کہ ان کا غمگین ہونا اس امر پر کنایہ ہے جو میں قوم، اہل وطن اور دشمنوں سے ظلم دیکھوں گا۔اس بات پر حضرت فاطمہ غمگین تھیں کہ میرے بیٹے کو یہ ظلم دیکھنا پڑے گا۔پھر حسن اور حسین دونوں میرے پاس آئے اور بھائیوں کی طرح مجھ سے محبت کا اظہار کرنے لگے اور ہمدردوں کی طرح مجھے ملے۔اور یہ کشف بیداری کے کشفوں میں سے تھا۔اس پر کئی سال گزر چکے ہیں اور مجھے حضرت علی اور حضرت حسین کے ساتھ ایک لطیف مناسبت ہے اور اس مناسبت کی حقیقت کو مشرق 21