عَلیٰ دِیْنِ وَّاحِدٍ : حکم اور عدل — Page 25
عَلَى دِينِ وَاحِدٍ: حکم اور عدل خطبه جمعه بیان فرموده ۲۸ اگست ۲۰۲۰ پکڑا۔آپ کو دکھلانے کے لیے لائے۔آپ نے اس کو تو نظر انداز کیا اور پھر فرمایا کہ آؤ میں تمہیں محترم کی کہانی سناؤں۔پھر کہتی ہیں ہم دونوں پاس بیٹھ گئے۔یہ ماہ محرم کا پہلا عشرہ تھا۔آپ نے شہادت حضرت امام حسین علیہ السلام کے واقعات سنانا شروع کیے۔فرمایا وہ ہمارے نبی کریم کے نواسے تھے۔ان کو منافقوں نے، ظالموں نے بھوکا پیاسا کر بلا کے میدان میں شہید کر دیا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیان فرمارہی ہیں کہ پھر فرمایا اس دن آسمان سرخ ہو گیا تھا۔چالیس روز کے اندر قاتلوں، ظالموں کو خدا تعالیٰ کے غضب نے پکڑ لیا۔کوئی کوڑھی ہو کر مرا۔کسی پر کوئی عذاب آیا اور کسی پر کوئی۔یزید کے ذکر پر ، یزید پلید فرماتے تھے۔کافی لمبے واقعات آپ نے سنائے۔حالت یہ تھی کہ آپ پر رقت طاری تھی۔آنسو بہنے لگتے تھے جن کو اپنی انگشت شہادت سے پونچھتے جاتے تھے۔15 اس ظلم کی داستان کو جب انسان سنتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔جب دشمن نے غلبہ پا لیا تو لکھا ہے کہ حضرت امام حسین نے اپنے گھوڑے کا رخ دریائے فرات کی طرف کیا یا کرنے کی کوشش کی تو آپ کا راستہ روک لیا گیا۔ایک شخص نے آپ کو تیر مارا جو آپ کی ٹھوڑی کے اوپر آکے لگا بڑا گہراز خم ہو گیا۔25