عَلیٰ دِیْنِ وَّاحِدٍ : حکم اور عدل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 26 of 38

عَلیٰ دِیْنِ وَّاحِدٍ : حکم اور عدل — Page 26

عَلَى دِينِ وَاحِدٍ: حکم اور عدل خطبه جمعه بیان فرموده ۲۸ اگست ۲۰۲۰ پھر حملہ آوروں نے مزید حملے کیے اور آپ کو شہید کر دیا۔راوی بیان کرتا ہے کہ میں نے شہادت سے قبل آپ کو یہ کہتے سنا کہ اللہ کی قسم ! میرے بعد بندگان خدا میں سے کسی بھی ایسے بندے کو قتل نہیں کرو گے جس کے قتل پر میرے محل سے زیادہ خدا تعالیٰ تم پر ناراض ہو۔پھر حضرت امام حسین نے فرمایا کہ واللہ ! مجھے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ذلیل کر کے مجھ پر کرم کرے گا اور پھر میرا انتقام تم سے اس طرح لے گا کہ تم حیران رہ جاؤ گے۔ان ظالموں نے آپ سے اور آپ کے خاندان سے کیا سلوک کیا۔شہید کیا اور شہید کرنے کے بعد پھر خیموں کو لوٹا۔عورتوں کے سروں سے چادریں اتاریں۔شہید کرنے کے بعد ان کے کمانڈر نے بلایا کہ حضرت امام حسین کی نعش لٹائی ہوئی ہے اس نعش پر سے کون گھوڑوں سمیت گزرے گا اور دس گھوڑے تیار ہوئے اور ان کو گزار کر نعش کو پامال کیا گیا۔آپ کی کمر کی ہڈیوں کو اور پسلیوں کو چکنا چور کر دیا گیا۔ایک روایت کے مطابق آپ کے جسم پر تینتیس زخم نیزے اور تینتالیس زخم تلوار کے تھے اور تیروں کے زخم اس کے علاوہ تھے۔پھر آپ کا سر کاٹ کر گورنر کے پاس بھیجا گیا اور اس نے پیسر کوفے میں نصب کروایا۔16 26