عَلیٰ دِیْنِ وَّاحِدٍ : حکم اور عدل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 27 of 38

عَلیٰ دِیْنِ وَّاحِدٍ : حکم اور عدل — Page 27

عَلَى دِينِ وَاحِدٍ: حکم اور عدل خطبه جمعه بیان فرموده ۲۸ اگست ۲۰۲۰ ظلم کی انتہا ہے! کوئی خبیث ترین دشمن بھی اس طرح نہ کرے۔یہ تو مختصر میں نے بیان کیا ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرمار ہے تھے تو اس وقت اس واقعہ پر غم سے آپ کے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔پس کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہم نعوذ باللہ خاندانِ نبوت سے محبت نہیں کرتے یا اس کا ادراک نہیں رکھتے بلکہ ایک موقعے پر جب آپ کو ایک موقع پہ پتہ لگا کہ کسی نے حضرت امام حسین کے بارے میں غلط الفاظ استعمال کیے ہیں آپ نے سختی سے جماعت کو بھی نصیحت فرمائی۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ: 66 واضح ہو کہ کسی شخص کے ایک کارڈ کے ذریعہ سے “ جو پوٹل کار ڈ ہوتا ہے اس کے ذریعے سے ” مجھے اطلاع ملی ہے کہ بعض نادان آدمی جو اپنے تئیں میری جماعت کے طرف منسوب کرتے ہیں، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت یہ کلمات منہ پر لاتے ہیں کہ نعوذ باللہ حسین "بوجہ اس کے کہ اس نے خلیفہ وقت یعنی یزید سے بیعت نہیں کی باغی تھا اور یزید حق پر تھا۔“ آپ نے فرمایا ”لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِین۔مجھے امید نہیں کہ میری جماعت کے کسی راستباز کے منہ سے ایسے خبیث الفاظ نکلے ہوں مگر ساتھ اس کے مجھے یہ بھی دل میں خیال گزرتا 27