حضرت حفصہ ؓ

by Other Authors

Page 17 of 23

حضرت حفصہ ؓ — Page 17

17 نہایت عبادت گزار اور امور دینیہ کی سختی سے پابند تھیں۔حضرت عائشہ حضرت خلصہ کے متعلق فرمایا کرتی تھیں کہ حصہ اپنے باپ (عمر) کی صاحبزادی ہیں۔جیسے مضبوط ارادے کے مالک وہ خود ہیں ویسی ہی ان کی صاحبزادی بھی ہیں۔حضرت شفاء نے حضرت حفصہ کو چیونٹی کے کاٹے کا منتر بھی سکھایا ایک دن وہ گھر آئیں تو رسول اللہ علیہ نے کہا اے شفاء ! تم حفصہ کو منتر سکھا دو۔حضرت عمر کی شہادت کا صدمہ آپ نے بڑے صبر سے برداشت کیا۔اور لوگوں کو پُر امن رہنے کی تلقین کرتی رہیں۔حضرت عمرؓ نے اپنی کچھ جائیداد آپ کی نگرانی میں دی تھی وفات سے پہلے اپنے بھائی حضرت عبد اللہ کو بلایا اور فرمایا کہ میرے بعد یہ جائیداد صدقہ کر دینا۔(29) تریسٹھ سال کی عمر میں 5 شعبان 45 ہجری میں امیر معاویہ کے دور حکومت میں مدینہ میں وفات پائی۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور حضرت ابو ہریرہ تدفین میں شامل ہوئے۔مروان بن الحکم نے نماز جنازہ پڑھائی۔ان کے بھائی حضرت عبد اللہ بن عمر اور ان کے لڑکوں عاصم، سالم عبد اللہ اور حمزہ نے قبر میں اتارا جنت البقیع میں مدفون ہیں۔آپ نے کوئی اولا د یادگار نہیں چھوڑی۔(30) اللہ تعالیٰ انہیں اپنے قرب خاص سے نوازے۔آمین اللهم آمین۔