حضرت حفصہ ؓ — Page 3
اُنہیں ایک اور نیک شخص کا خیال آیا اور وہ حضرت عبد اللہ بن ابوقحافہ ( جو حضرت ابو بکر کے نام سے معروف ہیں ) کے پاس گئے اور یہی سوال دہرایا کہ میری بیٹی بیوہ ہو گئی ہے اگر آپ پسند کریں تو اُس سے شادی کر لیں۔حضرت ابو بکر نے خاموشی اختیار فرمائی اور کوئی جواب نہ دیا۔(2)اس پر حضرت عمرؓ کو بڑا افسوس ہوا۔وہ غصے اور ملال کی حالت میں آنحضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ساری بات بتائی۔آپ ﷺ نے ساری بات سُنی اور حضرت عمرؓ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:۔عمر کچھ فکر نہ کرو۔خدا کو منظور ہوا تو حفصہ کو عثمان وابوبکر سے بہتر خاوند مل جائے گا اور عثمان کو حفصہ کی نسبت بہتر بیوی ملے گی۔“ (3) دراصل آنحضرت علی یہ ارادہ فرما چکے تھے کہ وہ حفصہ سے شادی کرلیں گے اور اپنی بیٹی حضرت ام کلثوم کی شادی حضرت عثمان سے کریں گے آپ علیہ نے اس بات کے لئے حضرت ابو بکر سے مشورہ کیا تھا۔اور یہی وجہ تھی کہ حضرت ابو بکر صدیق نے یہ رشتہ قبول نہ کیا بلکہ خاموشی اختیار کی۔(4) پھر آپ ﷺ نے خود ہی اپنی طرف سے حضرت عمرؓ کو حفصہ کے لئے پیغام بھیجا۔حضرت عمر کو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے تھا انہوں نے نہایت ہی خوشی سے یہ رشتہ قبول کرنے کی اطلاع دی۔(5) اس طرح شعبان 3 ہجری الله بمطابق فروری 625ء حضرت حفصہ رضی اللہ عنھا آنحضور ﷺ کے نکاح میں آکر