حضرت حفصہ ؓ — Page 2
حفصہ رضی اللہ عنھا کی جب پہلی شادی ہوئی اس وقت وہ صرف اٹھارہ سال کی تھیں۔اُن کے شوہر کا نام ٹینس بن حذافہ تھا۔یہ دونوں میاں بیوی 13 نبوی میں مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے پھر جب 2 ہجری میں جنگ بدر ہوئی تو خیس اس میں شامل تھے وہ بڑے مخلص صحابی تھے۔جنگ بدر میں دشمن کے زہر میں بجھے ہوئے تیروں کو اپنے سینے پر روکتے رہے اور زخموں سے چور ہو گئے اسی حالت میں ان کو مدینہ واپس لایا گیا۔ان زخموں کی تاب نہ لا کر کچھ عرصہ بعد وہ انتقال کر گئے۔(1) حضرت حفصہ رضی اللہ عنھا بیوہ ہوگئیں۔کچھ عرصہ بعد جب حضرت عمرؓ کو اُن کی دوسری شادی کا خیال آیا تو ان کے دل میں حضرت عثمان بن عفان کا خیال آیا جو بہت نیک تھے عام طور پر ایسا نہیں ہوتا کہ بیٹی کا باپ جا کر خود کسی سے کہے کہ میری بیٹی سے شادی کر لو مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بڑا پیارا واقعہ ہونا تھا۔ایسا ہوا کہ حضرت عمرؓ خود اپنے دوست حضرت عثمان بن عفان کے پاس گئے اور کہا کہ : ” میری بیٹی حفصہ اب بیوہ ہے آپ اگر پسند کریں تو اُس سے شادی کر لیں۔“ حضرت عثمان نے فرمایا کہ میں اس پر غور کروں گا۔چند دن بعد جب ان سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ حضرت عثمان اس رشتہ پر راضی نہیں ہیں۔حضرت عمر کو اس بات کا افسوس ہوا۔وہ پھر سوچنے لگے کہ اب کس سے کہیں۔