حضرت حفصہ ؓ

by Other Authors

Page 13 of 23

حضرت حفصہ ؓ — Page 13

13 زندگی بسر کرتی ہیں اور مشورے دیتی ہیں۔(21) اُس زمانے میں عربوں کا یہ خیال تھا کہ عورت میں کچھ عقل نہیں ہوتی اُسے ہمارے کسی معاملہ میں بولنا ہی نہیں چاہیے۔اگر کوئی کسی معاملے میں دخل بھی دیتی تو اُسے سخت نا پسند کرتے تھے۔ایک دفعہ حضرت عمر ایک بات کے متعلق سوچ رہے تھے۔اُن کی بیوی نے کہا بات تو آسان ہے اس طرح کرلو۔انہوں نے کہا کہ تو کون ہوتی ہے میرے معاملے میں دخل دینے والی۔اُن کی بیوی نے کہا جب رسول کریم ﷺ کی بیویاں اُن کو مشورہ دیتی ہیں تو اگر میں نے دے دیا تو کیا حرج ہے۔حضرت عمر اُسی وقت اپنی لڑکی کے پاس جو کہ رسول کریم مے سے بیاہی ہوئی تھیں دوڑے گئے اور پو چھا کہ کیا تم رسول کریم اللہ کے معاملے میں دخل دیا کرتی ہو۔وہ کہنے لگیں۔ہاں۔حضرت عمر نے انہیں کہا یہ بہت بُری بات ہے تم پھر اس طرح کبھی نہ کرنا۔اُن کی پھوپھی نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے کہا۔تم کون ہوتے ہو رسول کریم ﷺ کے گھر کی باتوں میں بولنے والے۔(22) الله رض حضرت عمر اپنی بیٹی کو اکثر سمجھایا کرتے تھے۔ایک روایت ہے کہ آپ نے حضرت حفصہ سے فرمایا تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جن کے سامنے تو اس طرح کے سوالات کرتی ہے وہ اللہ کے محبوب پیغمبر ہیں وہ جو بھی ارشاد فرما ئیں خاموشی اور ادب سے سُن لیا کرو۔حضرت حفصہ نے کہا:۔ابا جان ! عائشہ بھی تو