حدیقۃ الصالحین — Page 78
78 کہتے تھے۔اس کے بعد اس نے پوچھا۔کس بات کا تمہیں حکم دیتا ہے ؟ میں نے کہا نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے اور صلہ رحمی کرنے اور بدیوں سے بچنے کا حکم کرتا ہے۔ہر قل کہنے لگا۔جو کچھ تم نے اس کے بارے میں کہا ہے اگر یہ سچ ہے تو یقینا وہ نبی ہے اور میں جانتا تھا کہ وہ آنے والا ہے ، مگر میں یہ خیال نہیں کرتا تھا کہ وہ تم میں سے ہو گا اور اگر میں جانتا کہ میں اس تک اس کے پاس صحیح سالم پہنچ جاؤں گا تو میں ضرور اس کی ملاقات پسند کرتا اور اگر میں اس کے پاس ہو تا تو میں اس کے پاؤں کی میل دھوتا اور ضرور ضرور اس کی بادشاہت اس زمین تک پہنچ جائے گی جو میرے پاؤں کے نیچے ہے۔ابوسفیان کہتے تھے۔پھر اس نے رسول اللہ صلی علی کم کا خط منگایا اور اس کو پڑھا۔تو اس میں یہ مضمون تھا۔بسم اللہ الرحمن الرحیم ، محمد صلی علیم کی طرف سے جو اللہ کا رسول ہے۔ہر قل کی طرف جو رومیوں کا سر دار ہے۔جس نے ہدایت ( صحیح راستے) کی پیروی کی۔اس پر سلامتی ہو۔اما بعد میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔اسلام قبول کر لو سلامتی میں رہو گے اور اسلام قبول کرو۔اللہ تمہیں تمہارا اجر دے گا۔دومر تبہ۔اگر تم نے منہ پھیر لیا تو یا در کھو رعایا کا وبال بھی تم پر پڑے گا اور اے اہل کتاب تم اس بات کی طرف آؤ۔جو ہمارے اور تمہارے در میان مشتر کہ ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔اشہدوا بانا مسلمون تک۔جب ہر قل اس خط کے پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے پاس آوازیں بلند ہوئیں اور شور بہت ہوا اور ہمارے متعلق حکم دیا گیا اور ہم نکال دیئے گئے۔ابوسفیان کہتے تھے۔جب ہم نکلے میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا ابو کبشہ کے بیٹے کی تو دھاک بندھ گئی ہے۔اس سے تو اب بنو اصفر کا بادشاہ بھی ڈرتا ہے۔میں اس وقت سے رسول اللہ کے سلسلے کی نسبت یقین کئے رہا کہ وہ ضرور غالب ہو گا۔یہاں تک کہ یہ دن آیا اللہ نے مجھے کو اسلام میں داخل کیا۔زہری کہتے تھے۔ہر قل نے رومیوں کے بڑے بڑے سرداروں کو بلایا۔ان کو اپنے ایک محل میں جمع کیا اور کہنے لگا۔رومی لوگو! کیا تمہیں کامیابی اور سیدھے راستے پر رہنے کی خواہش ہے اور یہ کہ تمہاری بادشاہت قائم رہے۔یہ سن کر وہ جنگلی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف بھاگے۔مگر انہوں نے ان کو بند پایا۔ہر قل نے کہا ان کو میرے پاس لے آؤ۔ان کو بلایا اور کہنے لگا۔میں نے تو صرف یہ آزمایا تھا کہ تم اپنے دین پر مضبوط بھی ہو۔سو میں نے تم سے یہ بات دیکھ لی ہے جو میں چاہتا تھا۔یہ سن کر انہوں نے اس کے سامنے سجدہ کیا اور اس سے خوش ہو گئے۔