حدیقۃ الصالحین — Page 76
76 عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس مجھ سے بیان کرتے ہیں۔ابوسفیان نے میرے روبرو بات کرتے ہوئے کہا میں اس میعادی صلح کے دوران میں جو میرے اور رسول اللہ صلی ال نیم کے درمیان تھی چلا گیا کہا اس اثناء میں کہ میں شام میں تھا کہ نبی صلی علی یکم کا ایک خط ہر قل کے پاس لایا گیا کہا اور دحیہ کلبی وہ خط لایا اور اس نے بصرہ کے سردار کے سپر د کیا اور بصری کے سردار نے ہر قل کو پہنچا دیا۔ہر قل نے پوچھا کہ کیا اس شخص کی قوم میں سے کوئی یہاں ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے ؟ لوگوں نے کہا ہاں۔ابوسفیان نے کہا چنانچہ قریش کے چند لوگوں سمیت مجھے بلایا گیا اور ہم ہر قل کے سامنے پیش ہوئے اور اس کے سامنے بٹھائے گئے۔ہر قل نے پوچھا تم میں سے کون رشتہ دار ہیں اس شخص سے زیادہ قریب جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے ؟ ابوسفیان نے کہا میں ہوں۔تب انہوں نے مجھے اس کے سامنے بٹھایا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھایا پھر اس نے اپنے ترجمان کو بلایا اور اس سے کہا ان لوگوں سے کہو کہ میں اس سے اس شخص کے متعلق جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے پوچھنے لگاہوں اگر اس نے مجھ سے جھوٹ کہا تو تم اس کو جھٹلا دینا۔ابوسفیان کہتے تھے اور اللہ کی قسم کہ اگر یہ خیال نہ ہو تا کہ میرے ساتھی میرے بر خلاف کہہ دیں گے تو میں ضرور جھوٹ بولتا۔پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا اس سے پوچھ تم میں اس کا خاندان کیسا ہے ؟ کہتے تھے۔میں نے کہا وہ ہم میں خاندانی ہے۔ہر قل نے پوچھا کیا اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ بھی ہوا ہے ؟ کہتے تھے۔میں نے کہا نہیں۔پوچھا۔تو کیا پیشتر اس کے کہ وہ دعویٰ کرتا جو اس نے کیا تم اس پر جھوٹ کا الزام لگاتے تھے ؟ میں نے کہا نہیں۔کہنے لگا کیا لوگوں میں سے بڑے بڑے اس کی پیروی کرتے ہیں یا ان میں سے کمزور ؟ میں نے کہا بلکہ ان میں سے کمزور۔پوچھا کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں؟ میں نے کہا نہیں بلکہ بڑھ رہے ہیں۔اس نے پوچھا کیا ان میں سے کوئی اپنے دین سے اس میں داخل ہونے کے بعد دین سے نفرت کرنے کی وجہ سے مرتد بھی ہوتا ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔اس نے پوچھا کیا تم نے اس سے جنگ بھی کی ؟ میں نے کہا ہاں۔اس نے پوچھا۔پھر اس سے تمہاری لڑائی کیسی رہی؟ میں نے کہا لڑائی ہمارے اور اس کے درمیان ڈول کی طرح۔کبھی وہ ہم کو نقصان پہنچاتا ہے کبھی ہم اس کو پہنچاتے ہیں۔اس نے پوچھا۔کیا وہ عہد شکنی بھی کرتا ہے ؟ میں نے کہا نہیں اور اب ہم اس کی طرف سے ایک میعادی صلح