حدیقۃ الصالحین — Page 838
838 میں رنگین ہو جاتے ہیں۔یہاں تک کہ متبوع انبیاء اور ان کے کامل تابعین میں سوائے اصل اور تبعیت اور اولیت اور آخریت کے کوئی فرق نہیں رہتا۔(مکتوبات الربانیہ جلد 1 مکتوب نمبر 248 صفحہ 473)1 (۱)۔سو اسی طور رسول اللہ صلی اللی کم کی خاتمیت کو تصور فرمائیے یعنی آپ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور سوا آپ کے اور نبی موصوف بوصف نبوت بالعرض اوروں کی نبوت آپ کا فیض ہے پر آپ کی نبوت کسی اور کا فیض نہیں۔(تحذیر الناس صفحه 4) ۱۲)۔غرض خاتمیت زمانی سے یہ ہے کہ دین محمدی صلی للی کم بعد ظہور منسوخ نہ ہوا۔علوم نبوت اپنی انتہا کو پہنچ جائیں۔کسی اور نبی کے دین یا علم کی طرف پھر بنی آدم کو یہ احتیاج باقی نہ رہے۔(مناظره عجیبہ صفحہ 58 مصنفہ مولانا محمد قاسم نانوتوی ۱۳)۔بالفرض اگر بعد زمانہ نبوی صلی الی کی بھی کوئی نبی پیدا ہوا تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔(تحذير الناس صفحه (25) 1 اعلم ان كمال اتباع الانبياء عليهم السلام يجذبون الى انفسهم من جهة كمال المتابعة و فرط المحبة بل بمحض العناية و الموهبة جميع كمالات انبيائهم المتبوعين و ينصبغون بلونهم بالكلية حتى لا يبقى فرق بين المتبوع و التابع الا بالاصالة و التبعية و الاولية و الآخرية - مكتوبات الربانیہ جلد 1 مکتوب نمبر 248 صفحه 473)