حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 825 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 825

825 إشتقاق إن هؤلاء يَزْعُمُونَ أَنَّكَ لَا تُحْسِنُ تُصلى ؟ قال أبو إسحاق أنما أنا واللهِ فَإِنِّي كُنتُ أُصَلِّي بِهِم صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَخْرِمُ عَنْهَا، أَصَلِّي صَلَاةَ الْعِشَاءِ، فَأَرْكُدُ فِي الأُولَيَيْنِ وَأَخِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ ، قَالَ ذَاكَ الظَّنُ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ، فَأَرْسَلَ مَعَهُ رَجُلًا أَوْ رِجَالًا إلى الكُوفَةِ، فَسَأَلَ عَنْهُ أَهْلَ الكُوفَةِ وَلَمْ يَدَعْ مَسْجِدًا إِلَّا سَأَلَ عَنْهُ، وَيُثْنُونَ مَعْرُوفًا، حَتَّى دَخَلَ مَسْجِدًا لِبَنِي عَبْسٍ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ أَسَامَةُ بْنُ قَتَادَةَ يُكْنى أَبَا سَعْدَةَ قَالَ أَمَّا إِذْ نَشَدُتَنَا فَإِنَّ سَعْدًا كَانَ لَا يَسِيرُ بِالشَّرِيَّةِ، وَلَا يَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ، وَلَا يَعْدِلُ فِي القَضِيَّةِ، قَالَ سَعْدٌ: أَمَا وَاللهِ لَأَدْعُوَنَ بِثَلَاثٍ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ عَبْدُكَ هَذَا كَاذِبًا، قَامَ رِيَاءٌ وَسُمْعَةٌ، فَأَطِلْ عُمْرَهُ، وَأَطِل فَقْرَهُ، وَعَرِضُهُ بِالْفِتَنِ، وَكَانَ بَعْدُ إِذَا سُئِلَ يَقُولُ شَيْخٌ كَبِيرُ مَفْتُونَ، أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعْدٍ، قَالَ عَبْدُ المَلِكِ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ، قَدْ سَقَط حَاجِبَاهُ عَلَى عَيْنَيْهِ مِنَ الكِبَرِ ، وَإِنَّهُ لَيَتَعَرَّضُ لِلْجَوَارِي فِي الطُّرُقِ يَغْمِزُهُنَّ (صحيح البخاري كتاب الاذان باب وجوب القرائة للامام والمأموم في الصلوات۔۔۔755) حضرت جابر بن سمرہ کہتے تھے کوفہ والوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت سعد کی شکایت کی تو انہوں نے ان کو معزول کر دیا اور حضرت عمار کو ان کا عامل (حاکم) مقرر کیا۔کوفہ والوں نے حضرت سعدؓ کے متعلق شکایات میں یہ بھی کہا کہ وہ نماز بھی اچھی طرح نہیں پڑھاتے تو حضرت عمرؓ نے ان کو بلا بھیجا اور کہا اے ابو اسحاق ! یہ (لوگ) تو کہتے ہیں کہ آپ اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھاتے۔ابو اسحاق نے کہا میں تو بخدا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھایا کرتا تھا۔اس میں ذرہ بھی کم نہیں کرتا تھا۔عشاء کی نماز پڑھاتا تو پہلی دور کعتیں لمبی اور پچھلی دور کعتیں ہلکی پڑھتا تھا۔تب حضرت عمرؓ نے کہا ابو اسحاق ! آپ کے متعلق یہی خیال تھا۔پھر حضرت عمرؓ نے ان کے ساتھ ایک آدمی یا چند آدمی کوفہ روانہ کئے تا ان کے بارے میں کوفہ والوں سے پوچھیں۔انہوں نے کوئی مسجد بھی نہ چھوڑی جہاں حضرت سعد کے متعلق نہ پوچھا ہو اور لوگ (ان کی ) اچھی تعریف کرتے تھے۔آخر وہ قبیلہ بنی عبس کی مسجد میں گئے۔ان میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا۔اسے اسامہ بن قتادہ