حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 822 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 822

822 وَكَانَ قَتَلَ رَجُلًا عَظِيمًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ ، فَبَعَثَ اللَّهُ لِعَاصِمٍ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ، فَحَمَتَهُ مِنْ رُسُلِهِمْ ، فَلَمْ يَقْدِرُوا أَنْ يَقْطَعُوا مِنْهُ شَيْئًا (بخاری کتاب المغازی باب من شهد بدر 3989) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس مخبر بھیجے اور حضرت عاصم بن ثابت انصاری کو اُن کا امیر بنایا جو عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا تھے جب وہ عسفان اور مکہ کے درمیان ہر آہ کے مقام پر پہنچے تو کسی نے بذیل کے ایک قبیلے سے جسے بنو لحیان کہتے تھے ، (ان کا) ذکر کر دیا۔وہ تقریباً ایک سو تیر اند از لے کر ان کے تعاقب کے لئے نکلے اور ان کا کھوج لگانے لگے۔آخر انہوں نے ایک ایسے مقام پر جہاں وہ اُترے تھے وہ جگہ پالی جہاں انہوں نے کھجوریں کھائی تھیں۔کہنے لگے: یہ یثرب کی کھجوریں ہیں۔چنانچہ یہاں سے وہ ان کے قدموں کے نشانوں پر اُن کے پیچھے گئے۔جب حضرت عاصم اور اُن کے ساتھیوں نے ان کی آہٹ پائی تو وہ ایک جگہ پناہ گزیں ہو گئے۔ان لوگوں نے ان کو گھیر لیا اور ان سے کہنے لگے تم نیچے اتر آؤ اور اپنے آپ کو ہمارے سپر د کر دو اور تم سے یہ پختہ عہد و پیمان ہے کہ ہم تم میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کریں گے۔حضرت عاصم بن ثابت نے یہ سن کر کہا: اے لوگو! میں تو کسی کا فر کی پناہ میں نہیں اتروں گا۔پھر انہوں نے دعا کی اے اللہ اپنے نبی صلی ا م کو ہماری حالت سے آگاہ کر۔بنو لحیان ان پر تیر چلانے لگے اور حضرت عاصم کو مار ڈالا اور تین شخص عہد و پیمان پر بھروسہ کر کے ان کے پاس اتر آئے۔حضرت خبیب اور حضرت زید بن دشنہ نیز ایک اور شخص۔جب بنو لحیان نے ان پر قابو پالیا تو ان کی کمانوں کی تندیاں کھول کر انہیں باندھ لیا۔تیسرے شخص (حضرت عبد الله بن طارق) نے کہا یہ (تمہاری) پہلی بد عہدی ہے، اللہ کی قسم! میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا۔میرے لئے ان لوگوں میں نمونہ ہے یعنی ان لوگوں میں جو شہید ہو چکے تھے۔انہوں نے انہیں گھسیٹا اور اُن سے کشمکش کی، انہوں نے اُن کے ساتھ جانے سے ہر طرح انکار کیا ( آخر کار انہوں نے حضرت عبد اللہ بن طارق کو مار ڈالا )۔پھر وہ حضرت خبیب اور حضرت زید بن دشنہ کو اپنے ساتھ لے گئے اور بدر کی جنگ کے بعد اُن دونوں کو بیچ دیا۔بنو حارث بن عامر بن نوفل نے حضرت خبیب کو خریدا اور حضرت خبیب ہی تھے جنہوں نے حارث بن