حدیقۃ الصالحین — Page 816
816 کچھ جواب نہیں دیا۔تو ازواج نے پھر اُن سے کہا کہ تم آنحضرت (صلی یک) سے کہتی رہو ، یہاں تک کہ آپ کچھ جواب دیں۔جب آپ ام سلمہ کے پاس باری پر آئے تو انہوں نے پھر کہا۔آپ نے حضرت ام سلمہ سے فرمایا مجھے عائشہ کی وجہ سے تکلیف نہ دو کیونکہ وحی عائشہ کے سوا کسی اور بیوی کے بستر پر نہیں ہوئی۔حضرت ام سلمہ کہتی تھیں : میں نے کہا یارسول اللہ ! آپ کو تکلیف دینے سے اللہ کے حضور توبہ کرتی ہوں۔پھر اس کے بعد ان ازواج نے رسول اللہ لی لی ایم کی بیٹی حضرت فاطمہ کو بلایا اور رسول اللہ لی لی ایم کے پاس انہیں بھیجا کہ آپ سے کہیں کہ آپ کی ازواج حضرت ابو بکر کی بیٹی سے متعلق انصاف کرنے کے لئے آپ کو (اللہ کی قسم دیتی ہیں۔چنانچہ حضرت فاطمہ نے آپ سے کہا۔آپ نے فرمایا اے میری بیٹی ! کیا تم وہ بات پسند نہیں کرتی جو میں پسند کرتا ہوں؟ (حضرت فاطمہ نے) کہا کیوں نہیں اور وہ ازواج کے پاس لوٹ آئیں اور انہیں بتایا تو انہوں نے کہا تم آنحضرت کے پاس پھر جاؤ تو حضرت فاطمہ نے پھر جانے سے انکار کر دیا۔پھر انہوں نے حضرت زینب بنت جحش کو بھیجا۔وہ آپ کے پاس آئیں اور لب ولہجہ کچھ سخت تھا، یعنی انہوں نے کہا آپ کی ازواج ابن ابی قحافہ کی لڑکی سے متعلق آپ کو انصاف کرنے کیلئے اللہ کی قسم دیتی ہیں اور اونچی آواز سے بولیں یہاں تک کہ حضرت عائشہ کو بھی برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور حضرت عائشہ بیٹھی ہوئی تھیں۔حضرت زینب حضرت عائشہ کو سخت سست کہنے لگیں جس پر رسول اللہ صلی الیکم حضرت عائشہ کی طرف دیکھنے لگے، آیاوہ بھی کچھ بولتی ہیں۔( عروہ) کہتے تھے : آخر حضرت عائشہ حضرت زینب کو ترکی بہ ترکی جواب دینے لگیں حتی کہ حضرت زینب کو چپ کرا دیا۔(انہوں نے کہا) نبی صلی نیلم نے حضرت عائشہ کی طرف دیکھا اور فرمایا آخر ابو بکر کی بیٹی ہے۔رض 1006- عَنْ أَمْ هَانِي رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ لِيَكُنْ شِعَارُكِ الْعِلْمَ وَالْقُرْآنَ (مسند امام اعظم امام ابو حنیفہ ) کتاب العلم ، روایت نمبر 34 )