حدیقۃ الصالحین — Page 815
815 يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ إِنَّهُنَّ دَعَوْنَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: إِنَّ نِسَاءَكَ يَنْشُدُنَكَ اللَّهَ العَدْلَ فِي بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، فَكَلَّمَتُهُ فَقَالَ يَا بُنَيَّةُ أَلا تُحنِينَ مَا أُحِبُّ ؟ ، قَالَتْ بَلَى، فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَ، فَأَخْبَرَتُهُنَّ، فَقُلْنَ: ارْجِعِي إِلَيْهِ، فَأَبَتْ أَنْ تَرْجِعَ، فَأَرْسَلْنَ زَيْنَبَ بِئْتَ بَخشِ، فَأَتَتْهُ، فَأَغْلَظَتْ، وَقَالَتْ إِنَّ نِسَاءَكَ يَنْشُدُنَكَ اللَّهَ العَدْلَ فِي بِنْتِ ابْنِ أَبِي تُحَافَةَ، فَرَفَعَتْ صَوْتَهَا حَتَّى تَنَاوَلَتْ عَائِشَةَ وَهِيَ قَاعِدَةٌ فَسَبَتْهَا ، حَتَّى إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَنْظُرُ إِلَى عَائِشَةَ، هَلْ تَكَلَّمُ، قَالَ فَتَكَلَّمَتْ عَائِشَةُ تَرُدُّ عَلَى زَيْنَبَ حَتَّى أَسْكَتَتَهَا، قَالَتْ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَائِشَةَ، وَقَالَ إِنَّهَا بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ (صحیح البخاري، كتاب الهبة و فضلها والتحريض عليها باب من اهدى الى صاحبه و تحری بعض نسائه دون۔۔۔۔۔۔2581) رض رض حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج دو ٹولیوں کی صورت میں تھیں۔ایک میں عائشہ ، حفصہ ، صفیہ اور سودہ شامل تھیں اور دوسری میں ام سلمہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی ازواج۔اور مسلمانوں کو یہ علم ہو چکا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کو زیادہ محبوب رکھتے ہیں، تو جب ان میں سے کسی کے پاس کوئی ایسا ہد یہ ہوتا جسے وہ رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تھا تو وہ اسے پیش کرنے میں اس وقت کا انتظار کرتا جبکہ رسول اللہ صلی علیہ کی عائشہ کے گھر میں ہوتے۔ام سلمہ کے فریق نے (ام سلمہ سے) باتیں کیں اور اُن سے کہا رسول اللہ صلی اللہ کریم سے کہو کہ لوگوں سے یہ فرمائیں کہ جو رسول اللہ صلی علیم کے پاس کوئی ہدیہ بھیجنا چاہے تو آپ جس بیوی کے گھر میں بھی ہوں، وہ وہاں بھیج دیا کرے۔جو انہوں نے کہا تھا ام سلمہ نے وہ آپ سے کہہ دیا، تو آپ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا اور ان ازواج نے ( ام سلمہ سے) پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آپ نے مجھے کچھ جواب نہیں دیا۔پھر انہوں نے ام سلمہ سے کہا کہ تم آنحضرت (صلی ) سے پھر کہو۔ام سلمہ کہتی تھیں : جب آپ میری باری پر میرے ہاں آئے تو میں نے آپ سے پھر کہا، تو آپ نے پھر انہیں جواب نہ دیا اور آن ازواج نے اہم سلمہ سے پوچھا، تو انہوں نے کہا آپ نے مجھے