حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 68 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 68

68 حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ نبی صلی العلیم سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت اور سب سے بہادر اور سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔ایک بار ایسا ہوا کہ اہل مدینہ گھبرا اٹھے تو نبی صلی یکم گھوڑے پر سوار ہو کر ان سب سے آگے گئے اور آپ نے فرمایا ہم نے اس گھوڑے کو ٹھاٹیں مارتا ہوا دریا پایا۔عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ، وَأَشْجَعَ النَّاسِ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ المَدِينَةِ لَيْلَةً، فَخَرَجُوا نَحْوَ الصَّوْتِ، فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ اسْتَبْرَأَ الخَبَرَ ، وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْرٍ، وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ، وَهُوَ يَقُولُ لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا ثُمَّ قَالَ وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ قَالَ إِنَّهُ لَبَحْرُ (بخاری کتاب الجهاد باب الحمائل وتعليق السيف بالعنق 2908) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ نبی صلی ل لم لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے اور لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر تھے۔مدینہ والے ایک رات ایکا یک گھبراگئے اور آواز کی طرف چل پڑے تو نبی صلی ا ہم ان کو سامنے سے آتے ہوئے ملے۔آپ بات کی تحقیق کر چکے تھے۔آپ حضرت ابو طلحہ کے ایک گھوڑے پر سوار تھے۔جس کی پیٹھ نکلی تھی۔تلوار آپ کے گلے میں حمائل تھی۔اور آپ کہہ رہے تھے ڈرو نہیں ڈرو نہیں۔پھر آپ نے فرمایا ہم نے اس گھوڑے کو دریا پایا یا فرمایاوہ تو ایک دریا ہے۔عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ، وَأَجْوَدَ النَّاسِ، وَأَشْجَعَ النَّاسِ، قَالَ وَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ المَدِينَةِ لَيْلَةً سَمِعُوا صَوْتًا، قَالَ فَتَلَقَّاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْي، وَهُوَ مُتَقَلِّدٌ سَيْفَهُ، فَقَالَ لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدْتُهُ بُخْرًا يَعْنِي الفَرسَ (بخاری کتاب الجهاد باب اذا فزعوا بالليل (3040)