حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 65 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 65

65 يَارَسُولَ اللهِ ، قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِى مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى اللَّهِ ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ في قُلُوبِكُمَا هَذَا أَوْ قَالَ شَيْئًا (مسلم کتاب السلام باب بیان انه يستحب لمن روى خاليا بامراة وكانت زوجته او محر ما له ان يقول هذه فلانة ليدفع ظن السوء به 4027) آنحضرت علی علیکم کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ بنت حی فرماتی ہیں نبی صلی علی نام اعتکاف میں تھے۔میں رات کے وقت آپ سے ملنے آئی۔آپ سے باتیں کیں۔پھر واپس جانے کے لئے اٹھی۔آپ بھی میرے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے تا مجھے واپس چھوڑ آئیں اور ان کا گھر اسامہ بن زید کے محلہ میں تھا۔دو انصاری شخص گذرے اور جب انہوں نے نبی صلی للہ ہم کو دیکھا تو جلدی جلدی چلنے لگے۔نبی صلی للی یکم نے فرما یار کو ! یہ صفیہ بنت حی ہیں۔ان دونوں نے کہا سبحان اللہ ، یار سول صلی علی کرم اللہ ! آپ نے فرما یا شیطان انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اور میں ڈرا کہ وہ تم دونوں کے دل میں کچھ شر نہ ڈال دے۔53 - عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَط بِيَدِهِ، وَلَا امْرَأَةٌ، وَلَا خَادِمًا ، إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللهِ ، وَمَا يَيْلَ مِنْهُ شَيْءٍ قَةٌ، فَيَنْتَقِمَ مِنْ صَاحِبِهِ إِلَّا أَنْ يُنْتَهَكَ شَيْءٌ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ ، فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ (مسلم کتاب الفضائل باب مباعدته صلى الله علیہ وسلم للآثام و اختياره من المباح۔۔۔4282) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی للہ ہم نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔نہ کسی عورت کو ، نہ کسی خادم کو سوائے اس کے کہ آپ اللہ کی راہ میں جہاد کر رہے ہوں۔نہ ہی کوئی تکلیف پہنچنے پر آپ نے کبھی اس کے پہنچانے والے سے کوئی انتقام لیا۔ہاں مگر اللہ کی محرمات کی بے حرمتی کی جاتی تو آپ اللہ عزوجل کی خاطر انتقام لیتے۔