حدیقۃ الصالحین — Page 64
64 بَابٍ أَمِ سَلَمَةَ، مَرَّ رَجُلانِ مِنَ الأَنْصَارِ، فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَنٍ، فَقَالاً سُبْحَانَ اللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّهِ ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا (بخاری ، کتاب الاعتكاف باب هل يخرج المعتكف لحوائجه (2035) زہری سے مروی ہے کہ حضرت علی بن حسین (امام زین العابدین رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا کہ نبی صلی علیم کی زوجہ حضرت صفیہ نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کی غرض سے آپ کے پاس آئیں۔آپ اُس وقت مسجد میں اعتکاف فرما تھے ، جو رمضان کے آخری عشرہ میں تھا۔بی بی صفیہ نے کچھ وقت آپ کے پاس بیٹھ کر کچھ باتیں کیں۔پھر جب اُٹھ کر واپس جانے لگیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُن کو گھر تک پہنچانے کے لئے کھڑے ہو گئے۔جب حضرت صفیہ مسجد کے دروزے پر اُس جگہ پہنچیں جہاں حضرت ام سلمہ کا دروازہ ہے تو انصار میں سے دو شخص گزرے۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو السلام علیکم کہا نبی صلی الم نے اُن دونوں سے فرمایا ذرا ٹھہر جائیں۔یہ صفیہ بنت حی ہیں تو اُن دونوں نے کہا سبحان اللہ یارسول اللہ ! اور اُن دونوں پر شاق گزرا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان انسان میں وہاں تک پہنچتا ہے جہاں خون پہنچتا ہے اور مجھے اندیشہ ہوا کہ مبادا تمہارے دلوں میں کوئی بات ڈال دے۔عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَى، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا، فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا، فَحَذَفَتَهُ ، ثُمَّ قُمتُ لِأَنْقَلِبَ، فَقَامَ مَعِيَ لِيَقْلِبَنِي، وَكَانَ مَسْكُنُهَا فِي دَارِ أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَنٍ فَقَالَا سُبْحَانَ اللَّهِ