حدیقۃ الصالحین — Page 774
774 نزول مسیح اور ظہور مہدی سے متعلق احادیث پر تبصرہ 1) حدیث نمبر 932،931،930،927 سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام جو بنی اسرائیل کے رسول تھے ایک سو بیس سال کی عمر پا کر فوت ہو گئے۔حضرت ابن عباس، حضرت امام مالک امام ابن حزم اور بعض اور علماء کا یہی مسلک ہے کہ حضرت عیسی کی وفات ہو چکی ہے۔اور جو فوت ہو جائے وہ قیامت سے پہلے دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔پس اس کے لازمی معنے یہ ہیں کہ آنے والے ابن مریم سے مراد خود عیسی نہیں بلکہ ان کا مثیل ہے۔جو اپنی صفات اور اپنے کام کے لحاظ سے عیسی ابن مریم سے مشابہ ہو گا۔اور اس وجہ سے اس کا نام پا کر مسیح موعود کہلائے گا۔امام سراج الدین نے بھی اپنی کتاب خریدۃ العجائب 1 صفحہ 442 پر لکھا ہے کہ آنے والا موعود خود عیسی نہ ہو گا بلکہ اس کا مثیل اور ظل ہو گا۔شیخ محی الدین ابن عربی نے بھی یہی لکھا ہے۔دیکھیں حاشیہ حدیث نمبر 954،953۔2) حدیث نمبر 937 میں اس بات کا ذکر ہے کہ جب مسیح مبعوث ہو گا تو وہ دجال کو قتل کرے گا اور اقوام یا جوج ماجوج اس کی دعا سے ہلاک ہوں گی۔دوسری طرف حدیث نمبر 954 تا970 سے ظاہر ہے کہ مسیح صلیب کو توڑے گا۔صلیب عیسائی مذہب کا بنیادی نشان ہے اس کے صاف معنے ہیں کہ وہ عیسائیت کے مذہبی غلبہ کا خاتمہ کرے گا۔اس سے جہاں یہ ظاہر ہے کہ عیسائی، دجال اور یا جوج ماجوج ایک ہی طاقت کے صفاتی نام ہیں وہاں یہ بھی واضح ہے کہ مسیح اور مہدی ایک ہی وجود کے دو مختلف صفاتی نام ہیں۔1 وقالت فرقة : نزول عيسى خروج رجل يشبه عيسى فى الفضل والشرف؛ كما يقال للرجل الخير ملك وللشرير شيطان، تشبيهاً بهما، ولا يراد الأعيان (خريدة العجائب و فريدة الغرائب السراج الدین بن الوردی ، باب بقية من خبر عيسى عليه السلام ، صفحة 442)