حدیقۃ الصالحین — Page 760
760 يَقْطُرُ، وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بلل، بَيْنَ مُمَطَرَتَيْنِ، فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعُ الْجُزْيَةَ، وَيُعَظِلُ الْمِلَلَ، حَتَّى يُهْلِكَ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلُ كُلُّهَا غَيْرَ الْإِسْلَامِ، وَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمَسِيحَ الدَّجَالَ الْكَذَابَ، وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى تَرْتَعَ الْإِبِلُ مَعَ الْأُسْدِ جَمِيعًا، وَالنُّمُورُ مَعَ الْبَقَرِ، وَالذِتَابُ مَعَ الْغَنَمِ، وَيَلْعَبَ الصَّبْيَانُ وَالْغِلْمَانُ بِالْحَيَاتِ، لَا يَضُرُّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَيَمْكُتُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَمَكُكَ، ثُمَّ يُتَوَفَّى فَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ وَيَدْفِنُونَهُ (مسند الإمام أحمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة ، مسند ابی هریره رضی اللہ عنہ 9630) سة حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ ﷺ نے فرمایا انبیاء کا باہمی تعلق علاقی بھائیوں کا سا ہے جن کا دین ایک اور مائیں الگ الگ ہوں۔میر الوگوں میں سے عیسی بن مریم سے سب سے قریبی تعلق ہے کیونکہ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں (اس قرب روحانی کی وجہ سے میر امثیل بن کر وہ ضر ور نازل ہو گا) جب تم دیکھو تو اس حلیے سے اسے پہچان لینا کہ وہ درمیانے قد کا ہو گا۔سرخ و سفید رنگ، سیدھے بال اس کے سر سے بغیر پانی استعمال کئے قطرے گر رہے ہوں گے یعنی اس کے بال چمک کی وجہ سے تر تر لگتے ہوں گے۔وہ مبعوث ہو کر صلیب کو توڑے گا یعنی صلیبی عقیدے کا ابطال کرے گا خنزیر کو قتل کرے گا یعنی خبیث النفس لوگوں کی ہلاکت کا موجب ہو گا پس اس کے ذریعہ صلیبی غلبے کا انسداد اور خنزیر صفت لوگوں کا قلع قمع ہو گا۔جزیہ ختم کرے گا یعنی اس کا زمانہ مذہبی جنگوں کے خاتمہ کا زمانہ ہو گا۔اس کے زمانے میں اسلام کے سوا اللہ تعالیٰ باقی ادیان کو روحانی لحاظ سے بھی اور شوکت کے لحاظ سے بھی مٹادے گا اور جھوٹے مسیح دجال کو ہلاک کرے گا اور ایسا امن و امان کا زمانہ ہو گا کہ اونٹ شیر کے ساتھ ، چیتے گائیوں کے ساتھ، بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ اکٹھے چریں گے۔بچے اور بڑی عمر کے لڑکے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے۔پس اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جتنا عرصہ اللہ چاہے گا مسیح دنیا میں رہیں گے۔پھر وفات پائیں گے مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے اور ان کی تدفین عمل میں لائیں گے۔