حدیقۃ الصالحین — Page 759
759 - 954۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ – يَعْنِي عيسى عليه السلام - نَبِيُّ، وَإِنَّهُ نَازِلٌ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ رَجُلٌ مَرْبُوعٌ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، بَيْنَ مُمَطَرَتَيْنِ، كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ، وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلْ، فَيُقَاتِلُ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَيَدُقُ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعُ الْجُزْيَةَ، وَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِسْلَامَ، وَيُهْلِكُ الْمَسِيحَ الدَّجَالَ، فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، ثُمَّ يُتَوَفَّى فَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ (سنن أبي داود كتاب الملاحم باب خروج الدجال 4324) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی علی کرم نے فرمایا میرے اور اس یعنی عیسی علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں۔جب تم اس کو دیکھو تو اسے پہچان لینا کہ وہ درمیانے قد کا ہو گا۔سرخ و سفید رنگ، سید ھے بال اس کے سر سے بغیر پانی استعمال کئے قطرے گر رہے ہوں گے (یعنی اس کے بال چمک کی وجہ سے تر تر لگتے ہوں گے)۔(وہ مبعوث ہو کر) صلیب کو توڑے گا( یعنی صلیبی عقیدے کا ابطال کرے گا) خنزیر قتل کرے گا (یعنی خبیث النفس لوگوں کی ہلاکت کا موجب ہو گا) پس اس کے ذریعہ صلیبی غلبہ کا انسداد اور خنزیر صفت لوگوں کا قلع قمع ہو گا۔جزیہ ختم کرے گا یعنی اس کا زمانہ مذہبی جنگوں کے خاتمہ کا زمانہ ہو گا)۔اس کے زمانے میں اسلام کے سوا اللہ تعالی باقی ادیان کو روحانی لحاظ سے بھی اور شوکت کے لحاظ سے بھی مٹا دے گا اور جھوٹے مسیح دجال کو ہلاک کرے گا۔چالیس سال تک مسیح دنیا میں رہیں گے۔پھر وفات پائیں گے مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔عن أبي هريرة، عَنِ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الأَنْبِيَاء إخْوَةً لِلعَلَّاتٍ دِيبُهُمْ وَاحِدٌ، وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، لِأَنَّهُ لَمْ يَكُن بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيُّ، وَإِنَّهُ تازِلُ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ مَرْبُوعٌ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، سَبْطَ كَأَنَّ رَأْسَهُ