حدیقۃ الصالحین — Page 63
63 يَبِيعُ مَتَاعَهُ فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ لَا يُبْصِرُهُ، فَقَالَ مَنْ هَذَا؟ أَرْسِلْنِي۔فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ لَا يَأْلُو مَا أَلْصَقَ ظَهْرَهُ بِصَدْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَرَفَهُ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ يَشْتَرِى هَذَا الْعَبْدَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ، إِذًا وَاللهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا، فَقَالَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكِن عِنْدَ اللهِ لَسْتَ باسِدٍ أَوْ قَالَ أَنتَ عِنْدَ اللهِ غَالٍ (شمائل المحمديه للترمذى باب ما جاء فى صفة مزاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم (231) حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک بادیہ نشین شخص جس کا نام زاہر تھا۔وہ نبی صلی الی یکیم کے لئے صحراء سے تحفے لایا کرتا تھا جب وہ واپس جانے کا ارادہ کرتا تو نبی صلی علیہ کی اس کے لئے (کچھ) سامان تیار کرواتے۔نبی صلی اللی یکم نے فرمایا زاہر ہمارا بدوی دوست ہے اور ہم اس کے شہری دوست ہیں اور رسول اللہ صلی علی نام اس سے محبت کرتے تھے ور وہ معمولی شکل و صورت آدمی تھے۔ایک دن نبی صلی علی کرم اس کے پاس تشریف لے گئے جب کہ وہ اپنا سامان بیچ رہا تھا اور آپ نے پیچھے سے آکر اس کی کمر میں اپنے بازو ڈال دیئے اور وہ آپ کو دیکھ نہ سکتا تھا۔اُس نے کہا یہ کون ہے؟ مجھے چھوڑ دو۔پھر جب اس نے توجہ کی تو نبی کریم صلی یکم کو پہچان لیا۔جب وہ آپ کو پہچان گیا تو اپنی پشت کو نبی صلی این کم کے سینہ مبارک پر خوب خوب چمٹانے لگا پھر نبی صلی اللہ یکم فرمانے لگے اس غلام کو کون خریدے گا؟ اُس نے کہا یارسول اللہ ! اللہ کی قسم اس طرح تو آپ مجھے بہت کم قیمت پائیں گے۔اس پر رسول اللہ صلی علیکم نے فرمایا لیکن اللہ کے ہاں تو کم قیمت نہیں ہے یا یہ فرمایا اللہ کے نزدیک تو بیش قیمت ہے۔الله سة 52ـ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ صَفِيَّةَ - زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ فِي المَسْجِدِ فِي العَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً، ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا يَقْلِبُهَا ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ بَابَ المَسْجِدِ عِنْدَ