حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 743 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 743

743 941 - عن سبيع قَالَ أَرْسَلُونِي مِنْ مَاءٍ إلَى الْكُوفَةِ أَشتَرى الدَّوَابَ، فَأَتَيْنَا الكُتاسَةَ عَنْ فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ جَمْع قَالَ فَأَمَّا صَاحِبِي فَانطلق إلى الدَّوَاتٍ وَأَمَّا أَنَا فَأَتَيْتُهُ، فَإِذَا هُوَ حُذَيْفَةُ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الْخَيْرِ وَأَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرْ كَمَا كَانَ قَبْلَهُ شَرٌّ ؟ قَالَ نَعَمْ ، قُلْتُ فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْهُ ؟ قَالَ السَّيْفُ - أَحْسَبُ أَبُو التَّيَّاحِ يَقُولُ السَّيْفُ، أَحْسَبُ - قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ ثُمَّ تَكُونُ هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ ، قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ ثُمَّ تَكُونُ دُعَاةُ الضَّلَالَةِ، فَإِنْ رَأَيْتَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ فَالْزَمُهُ، وَإِنْ نَبَكَ جِسْمَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ، فَإِنْ لَمْ تَرَهُ فَاهْرَبْ فِي الْأَرْضِ، وَلَوْ أَنْ تَمُوتَ وَأَنْتَ عَاضُ بِجِذْلِ شَجَرَةٍ ، قَالَ قُلْتُ ثُمَّ ماذا ؟ قال لم يخرجُ الدَّجَالُ ، قَالَ قُلْتُ في تجي بِهِ مَعَهُ ؟ قَالَ بِنَبَرٍ أَوْ قَالَ مَاءٍ وَنَارٍ - فَمَن دَخَلَ نَهْرَهُ حُطَ أَجْرُهُ، وَوَجَبَ وِزْرُهُ، وَمَنْ دَخَلَ نَارَهُ وَجَبَ أَجْرُهُ وَحُطَ وِزْرُهُ ، قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ لَوْ أَنْتَجْتَ فَرَسًا لَمْ تَرُكَبْ، فَلُوهَا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ (مسند احمد بن حنبل ، تتمه مسند الانصار ، حديث حذيفة بن اليمان عن النبي ال 23819) حضرت سبیح بیان کرتے ہیں کہ چند لوگوں کے ساتھ مجھے ایک آباد چشمہ سے کوفہ کی طرف بھیجا گیا تا کہ وہاں سے کچھ جانور خرید لاؤں۔جب ہم کناسہ کے مقام پر ایک خانقاہ پر پہنچے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی کے ارد گرد لوگ جمع ہیں۔میرے ساتھی تو جانوروں کی طرف چلے گئے اور میں اس آدمی کی طرف آ گیا وہاں جاکر معلوم ہوا کہ وہ شخص حضرت حذیفہ نہیں اور کہہ رہے ہیں کہ آنحضرت علی ایم کے (دوسرے) صحابہ ہمیشہ اچھی، بھلائی اور خوشخبری والی باتیں آپ صلی ایام سے پوچھا کرتے تھے لیکن میں مستقبل میں پیدا ہونے والے فتنہ وفساد کے متعلق پوچھتارہتا تھا۔ایک دن میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا ان بھلے دنوں کے بعد برے دن بھی آئیں گے جس طرح پہلے برے دن تھے ؟ آپ صلی ٹیم نے فرمایا ہاں۔میں نے عرض کیا اس فتنہ سے بچنے کی کیا صورت اختیار کی جائے گی ؟ آپ نے فرمایا تلوار، یعنی جنگ کا حربہ استعمال کیا جائے گا۔میں نے عرض کیا۔نتیجہ کیا ہو گا؟