حدیقۃ الصالحین — Page 61
61 رسول ہیں تعجب ہے کہ آپ کو بھی اس قدر تیز بخار ہے۔حضور صلی للی یکم نے فرمایا اس امت میں سب سے زیادہ آزمائش اس کے نبی کی ہے کہ وہ نمونہ ہے ، پھر درجہ بدرجہ نیک اور بڑے لوگوں کی اور یہی طریق گذشتہ نبیوں اور امتوں کے ساتھ بھی ہو تا رہا ہے۔48 - عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ اضْطَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى حَصِيرٍ فَأَثَرَ فِي جِلْدِهِ، فَقُلْتُ بِأَبِي وَأَتِي، يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ كُنْتَ آذَنَتَنَا فَفَرَشْنَا لَكَ عَلَيْهِ شَيْئًا يَقِيكَ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنَا وَالدُّنْيَا إِنَّمَا أَنَا وَالدُّنْيَا كَرَاكِبٍ اسْتَطَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا (سنن ابن ماجه کتاب الزهد باب مثل الدنيا 4109) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ چٹائی پر لیٹنے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر نشانات تھے میں نے یہ دیکھ کر عرض کیا۔ہماری جان آپ کی یہی تم پر فدا ہو اگر آپ صلی علیکم اجازت دیں تو ہم اس چٹائی پر کوئی گدیلا وغیرہ بچھا دیں۔جو آپ صلی علیہ کم کو اس کھردرے پن سے بچائے یہ سن کر رسول اللہ صلی الیکم نے فرمایا مَا أَنَا وَالدُّنْيَا مجھے دنیاوی لذتوں سے کیا غرض ؟ میں تو صرف ایک مسافر کی طرح ہوں جو کچھ دیر سستانے کی غرض سے سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ جاتا ہے اور پھر اسے چھوڑ کر اپنے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔49 - عَنْ أَبِي بُرْدَةً، قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءٌ وَإِذَارًا غَلِيظًا، فَقَالَتْ قُبِضَ رُوحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَيْنِ (بخاری کتاب اللباس باب الاكسية و الخمائص (5818) حضرت ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عائشہ نے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موٹی کھدر کی چادر اور تہبند نکال کر دکھائی اور کہا کہ نبی صلی نیلم نے وفات کے وقت یہ کپڑے پہن رکھے تھے۔