حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 60 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 60

60 46 - عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ، وَحَشْوُهُ من ليف (بخاری ، کتاب الرقاق ، باب كيف كان عيش النبی صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابہ 6456) س حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صل اللی علم کا بستر چمڑے کا تھا جس کے اندر کھجور کے بار یک نرم ریشے بھرے ہوئے تھے۔47 - عَنِ الْأَسْوَدِ، أَن عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَكَاةٍ شَكَاهَا، فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعْ عَلَى عَبَاءَةٍ قَطَوَانِيَّةٍ وَمِرْفَقَةٍ مِنْ صُوفٍ حَشُوهَا إِذْخِرِ، فَقَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأَقِى يَا رَسُولَ اللَّهِ كِسْرَى وَقَيْصَرُ عَلَى الذِيبَاجِ فَقَالَ يَا عُمَرُ! أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ ؟ ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ مَسَّهُ فَإِذَا هُوَ فِي شِدَّةِ الْحُمَّى، فَقَالَ تُحَمُّ هَكَذَا وأنْتَ رَسُولُ اللهِ ؟ فَقَالَ إِنْ أَهَدَّ هَذِهِ الْأَمَةِ بَلَاءٌ نَبِهَا، ثم الخير، قم الخير ، وَكَذَلِكَ كَانَتِ الْأَنْبِيَاء قَبْلَكُمْ وَالأقم (مسند امام اعظم امام ابو حنیفه ، کتاب الرقاق، باب بیان محتویات الرقاق حدیث نمبر 481 ) م الله حضرت اسود بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے حضور علی یہ کم بیمار تھے اور ایک قطوانی چادر پر لیٹے ہوئے تھے اور تکیہ ایسا تھا جس کے اندر اذخر گھاس بھری ہوئی تھی۔یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ کہنے لگے حضور ! میرے ماں باپ آپ صلی علیم پر قربان ہوں قیصر و کسری تو ریشمی گدے پر آرام کریں اور آپ اس حالت میں ہوں۔یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمر ! کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ یہ آرام دہ سامان تمہیں آخرت میں میسر آئیں اور ان دنیا داروں کے لئے صرف یہ دنیا ہو یعنی عیش و عشرت اور مسرفانہ زندگی ہمارا شیوہ نہیں۔پھر عمرؓ نے حضور صلی الم کے جسم مبارک کو چھوا تو دیکھا کہ آپ صلی للی کم شدید بخار میں مبتلا ہیں۔اس پر عمرہ کہنے لگے حضور صلی ا لم! آپ تو اللہ کے میں کم م الله