حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 717 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 717

717 (پل) صراط کے دونوں جانب آنکڑے لٹک رہے ہوں گے جس کے متعلق حکم ہو گا اس کو پکڑنے پر مامور ہوں گے۔خراشیں لگنے والے (بھی) ناجی ہیں وہ نجات پا جائیں گے۔بعض الٹ کر جہنم میں جاگریں گے اور اس کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے جہنم کی گہرائی ستر برس کی ہے۔فتنے اور آخری زمانے کی علامات 916ـ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ يُحَدِّثُ القَوْمَ ، جَاءَهُ أَعْرَابِي فَقَالَ مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَمَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، فَقَالَ بَعْضُ القَوْمِ : سَمِعَ مَا قَالَ فَكَرِهَ مَا قَالَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ لَمْ يَسْمَعْ، حَتَّى إِذَا قَضَى حَدِيثَهُ قَالَ أَيْنَ - أَرَادُ - السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ قَالَهَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ فَإِذَا ضُيْعَتِ الأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ ، قَالَ كَيْفَ إِضَاعَتُهَا ؟ قَالَ إِذَا وُشِدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ (بخاری کتاب العلم باب من سئل علما و هو مشتغل في حديثه۔۔۔59) حضرت ابوہریرہ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ نبی صلی اللہ یکم مجلس میں بیٹھے لوگوں سے باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں ایک بدوی آپ کے پاس آیا اور اس نے پوچھا: موعودہ گھڑی کب ہو گی ؟ رسول اللہ صلی علی کی اپنی بات میں لگے رہے۔اس پر لوگوں میں سے کسی نے کہا: جو اس نے کہا آپ نے سن لیا ہے مگر آپ نے اس کی بات کو بر امنایا۔اور ان میں سے بعض نے کہا نہیں آپ نے سنا نہیں۔آخر جب آپ بات ختم کر چکے تو فرمایا کہ کہاں ہے ؟ ( راوی کہتا ہے) میں سمجھتا ہوں۔(آپ نے یوں فرمایا) موعودہ گھڑی کے متعلق پوچھنے والا۔اس نے کہا یارسول اللہ ! میں یہ ہوں۔فرمایا جب امانت ضائع کر دی جائے گی تو اس وقت موعودہ گھڑی کا انتظار کرو۔اس نے پوچھا: وہ کیوں کر ضائع کی جائے گی ؟ فرمایا جب حکومت نا اہل لوگوں کے سپرد کر دی جائے گی تو اس وقت اس گھڑی کا انتظار کرو۔