حدیقۃ الصالحین — Page 711
711 حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی صلی علیکم نے فرمایا اللہ تعالیٰ جنتیوں سے فرمائے گا اے جنت والو ! وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم حاضر ہیں اور یہ ہماری خوش بختی ہے اور خیر تیرے ہاتھ میں ہے۔وہ کہے گا کیا تم راضی ہو ؟ وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم کیوں نہ راضی ہوں جبکہ تو نے ہمیں وہ دیا ہے جو اپنی مخلوق میں سے تو نے کسی کو نہیں دیا۔اس پر وہ فرمائے گا کیا میں تمہیں اس سے افضل چیز نہ دوں وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! اس سے افضل چیز کونسی ہے ؟ وہ فرمائے گا میں تم پر اپنی رضامندی نازل کرتا ہوں اور اس کے بعد میں کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔دو 911- عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْى، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبِي قَدْ تَحْلُبُ ثَدْيَهَا تَسْقِى، إِذَا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ أَخَذَتْهُ، فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتْرَوْنَ هَذِهِ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ ؟ قُلْنَا لَا، وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ لَا تَطْرَحَهُ، فَقَالَ اللَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا (بخاری کتاب الادب باب رحمة الولد و تقبیله و معانقته 5999) حضرت عمر بن خطاب نے بیان کیا کہ نبی صلی للی نیم کے پاس کچھ قیدی آئے۔ان قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کا پستان دودھ سے اس وجہ سے پھوٹ پڑا کہ وہ کسی بچے کو دودھ پلایا کرتی تھی جب بھی وہ ان قیدیوں میں کسی بچے کو دیکھتی تو اس کو لیتی اور اپنے پیٹ سے اسے لگا لیتی اور اس کو دودھ پلانے لگتی۔نبی علی پیریم نے ( یہ دیکھ کر ) ہم سے فرمایا کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی۔ہم نے کہا ہر گز نہیں جب تک اس کو آگ میں نہ ڈالنے کی طاقت رکھے گی تو آپ نے فرمایا اللہ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنی یہ عورت اپنے بچے پر۔۔