حدیقۃ الصالحین — Page 55
55 41 - عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ مَا بَعَثْنِيَ اللَّهُ بِهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَ، وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ، فَالنَّجَاءَ، فَأَطَاعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَأَدْجُوا فَانْطَلَقُوا عَلَى مُهْلَتِهِمْ، وَكَذَّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَصْبَحُوا مَكَانَهُمْ ، فَصَبَحَهُمُ الْجَيْشُ فَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي وَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهِ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِي وَكَذَّبَ مَا جِئْتُ بِهِ مِنَ الْحَقِ (مسلم کتاب الفضائل باب شفقتہ صلی اللہ علیہ وسلم علی امته و مبالغته في تحذيرهم مما يضر هم 4219) حضرت ابو موسی سے روایت ہے کہ نبی صلی ایم نے فرمایا کہ میری مثال اور اس ہدایت کی مثال جس کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس شخص کی مثال ہے جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا اے میری قوم یقینا میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا ہے اور میں کھلا کھلا ڈرانے والا ہوں۔پس بچ جاؤ۔پس اس کی قوم کے ایک گروہ نے اس کی اطاعت کر لی۔وہ رات کو نکل گئے اور وقت کے اندر اندر چلے گئے اور ان میں سے ایک گروہ نے تکذیب کی اور وہ اپنی جگہوں پر ہی رہے اور اس لشکر نے انہیں صبح آلیا اور بلاک کر دیا اور انہیں جڑ سے اکھیڑ دیا۔یہ مثال اس شخص کی ہے جس نے میری اطاعت کی اور اس کی پیروی کی جو میں لے کر آیا ہوں اور اس کی مثال ہے جس نے میری نافرمانی کی اور تکذیب کی اس حق کی جسے میں لے کر آیا ہوں۔42- حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللهِ ، هَلْ أَتَى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ أَحْدٍ ؟ فَقَالَ لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ وَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ، إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِى عَلَى ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَى مَا أَرَدْتُ، فَانْطَلَقْتُ وَأَنا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِي، فَلَمْ أَسْتَفِقُ إِلَّا بِقَرْنِ الفَعَالِبِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي