حدیقۃ الصالحین — Page 658
658 جابر ! تمہاری جھونپڑی کہاں ہے ؟ میں نے آپ کو بتلایا۔آپ نے فرمایا میرے لئے اس میں بچھو نا لگا دو۔میں نے آپ کے لئے بچھونا بچھایا۔آپ اس میں گئے اور سو گئے۔پھر آپ جاگے اور میں آپ کے پاس مٹھی بھر اور کھجور میں لایا۔آپ نے ان میں سے کچھ کھائیں پھر کھڑے ہوئے اور یہودی سے گفتگو کی۔لیکن اس نے آپ کی نہ مانی۔آخر آپ دوسری بار ان کھجوروں میں جن کے پھل سبز تھے کھڑے ہوئے۔پھر فرمایا جابر کھجوریں کاٹو اور اس کا قرض چکادو۔آپ کھجوریں کاٹنے کے اثنا میں ٹھہرے رہے۔میں نے ان سے اتنی کھجوریں کائیں جس سے اس کا قرضہ ادا کر دیا اور ان سے کچھ پیار ہیں۔میں باغ سے نکل کر نبی علی میم کے پاس آیا اور آپ کو خوشخبری دی آپ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کار سول ہوں۔843ـ عَنْ عَلَيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ مُكَاتَبًا جَاءَهُ فَقَالَ إِنِّي قَدْ عَجَزْتُ عَنْ كِتَابَنِي فَأَعِنِّي، فقَالَ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِينَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلِ تَبِيْرِ دَيْنًا أَذَاهُ اللهُ عَنْكَ؟ قَالَ قُلْ: اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّن سِوَاكَ (ترمذی کتاب الدعوات باب في دعاء النبي الا 3563) حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور عرض کیا کہ میں زر کتابت یعنی فدیہ آزادی ادا کرنے سے قاصر ہوں۔آپ میری مدد فرمائیں۔آپ نے فرمایا کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ بتاؤں جو مجھے رسول اللہ صلی ال نیلم نے سکھائے تھے اور فرمایا تھا کہ اگر تجھ پر پہاڑ کے برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ اس دعا کی برکت سے اس کے ادا کرنے کے سامان کر دے گا تم یہ دعا مانگا کرو۔اے میرے اللہ ! تیرا دیا ہوا حلال رزق میرے لئے کافی ہو حرام رزق کی مجھے ضرورت نہ پڑے ( یعنی مجھے حلال رزق دے، حرام رزق سے بچا ) اور اپنے فضل سے مجھے اپنے سوا دوسروں سے بے نیاز اور مستغنی کر دے ( یعنی کبھی دوسروں کا محتاج نہ بنوں)۔