حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 652 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 652

652 عَنْ أَبِي الْهَيْقَمِ قَالَ جَاءَ قَوْمٌ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ فَقَالُوا إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ وَيَفْعَلُونَ، أَفَذَرْفَعُهُمْ إِلَى الْإِمَامِ ؟ قَالَ لَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَأَى مِنْ مُسْلِمٍ عَوْرَةً فَسَتَرَهَا، كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُ ودَةٌ مِنْ قَبْرِهَا الادب المفرد ، باب من ستر مسلما 758 صفحه 264) ابو الھیثم کہتے ہیں کہ کچھ لوگ حضرت عقبہ بن عامر کے پاس آئے اور کہا ہمارے ہمسائے شراب پیتے ہیں اور دوسرے افعال کرتے ہیں کیا ہم ان کا معاملہ امیر تک پہنچائیں ؟ انہوں نے کہا نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ ہم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے کسی کی کمزوری دیکھی اور پردہ پوشی سے کام لیا یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی زندہ در گور لڑکی کو اس کی قبر سے نکالا اور اسے زندگی بخشی۔حسن ظن 835ـ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ حُسْنَ الظَّنِ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ (مسند احمد بن حنبل ، مسند المكثرين من الصحابه ، مسند ابي هريرة 7943) حضرت ابوہریر کا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا یقیناً حسن ظن ایک حسین عبادت ہے۔عن أبي هريرة۔۔۔۔۔عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ حُسْنُ الظَّنِ مِنْ حُسْنٍ هُرَيْرَةَ، الْعِبَادَةِ (ابو داؤد کتاب الادب باب في حسن الظن (4993) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللی کم نے فرمایا کہ حسن ظنی عبادت کی خوبصورتی میں سے ہے۔