حدیقۃ الصالحین — Page 641
641 819ـ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ فَخَرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِيثَ صَاحِبِهِ قَالا: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانَ الْحُدَيْبِيَّةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ۔۔۔۔۔فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِيَّةِ الْكِتَابِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ : قُومُوا، فَانْحَرُوا، ثُمَّ احْلِقُوا قَالَ فَوَاللهِ مَا قَامَ مِنْهُمْ رَجُلٌ، حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا لَمْ يَقُمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ، قَامَ ، فَدَخَلَ عَلَى أُمِ سَلَمَةَ، فَذَكَرَ لَهَا مَا لَقِي مِنَ النَّاسِ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتُحِبُّ ذَلِكَ ؟ اخْرُجُ ، ثُمَّ لَا تُكَلِّمُ أَحَدًا مِنْهُمْ كَلِمَةٌ حَتَّى تنْحَرَ بُدُنَكَ، وَتَدْعُوَ حَالِقَكَ، فَيَحْلِقَكَ۔فَقَامَ ، فَخَرَجَ ، فَلَمْ يُكَلِّمُ أَحَدًا مِنْهُمْ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ : نَحَرَ هَدْيَهُ، وَدَعَا حَالِقَهُ۔فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ قَامُوا، فَنَحَرُوا ، وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَحْلِقُ بَعْضًا حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا غَما (مسند احمد بن حنبل کتاب اول مسند الكوفيين باب حدیث المسور بن مخرمه و مروان بن الحكم 19136) مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم سے روایت ہے ، ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی روایت کی تصدیق کرتا ہے۔وہ دونوں کہتے ہیں حدیبیہ کے زمانہ میں رسول اللہ صلی الی یکی اپنے چودہ سو صحابہ کے ساتھ نکلے جب معاہدہ صلح لکھا جا چکا تو رسول اللہ صلی اللی کم نے صحابہ سے فرمایا اٹھو اپنی قربانیاں ذبح کرو اور بال منڈوا کر احرام کھول دو۔راوی کہتے ہیں اللہ کی قسم ! ان میں سے ایک شخص بھی نہ اٹھا یہاں تک کہ آپ نے تین بار یہ بات دہرائی۔جب ان میں سے کوئی نہ اٹھا آپ کھڑے ہوئے اور حضرت ام سلمہ کے پاس اندر تشریف لے گئے۔اور ان سے اس صورت حال کا ذکر کیا۔حضرت ام سلمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! (اس وقت صحابہ شدت غم سے دو چار ہیں) آپ باہر تشریف لے جائیں اور ان (صحابہ ) سے کوئی گفتگو نہ فرمائیے بلکہ اپنی قربانی ذبیح کیجئے اور حجام کو بلوائیے اور بال کٹوا کر احرام کھول دیجئے (پھر دیکھئے کیا ہوتا ہے) چنانچہ حض حضور علی ایم نے ایسا ہی کیا۔آپ کھڑے ہوئے اور باہر نکلے اور ان میں سے کسی سے بات نہ کی یہاں رض