حدیقۃ الصالحین — Page 629
629 راوی کہتے ہیں کہ انصار نے جواب دیا احسان اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے اور فضل ہم پر اور ہمارے غیر پر ہے۔آپ نے فرمایا یہ کیا بات ہے جو مجھے تمہاری طرف سے پہنچی ہے ؟ وہ خاموش رہے۔آپ نے فرمایا یہ کیا بات ہے جو مجھے تمہاری طرف سے پہنچی ہے ؟ انصار کے سمجھدار لوگوں نے کہا ہمارے سرداروں نے تو کوئی بات نہیں کی لیکن ہمارے نوجوانوں نے کہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی الی یکم کی مغفرت فرمائے ، وہ قریش کو دیتے ہیں اور ہمیں نظر انداز کرتے ہیں حالانکہ ہماری تلواروں سے ان کے خون ٹپک رہے ہیں۔798 عن جابر بن عَبْدِ اللهِ ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَنَاعَةُ كُنز لا يفنى رسالة قشيريه ، باب القناعة صفحه 196) حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی للہ ﷺ نے فرمایا کہ قناعت ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے۔799 - عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَاينِ، فَاسْتَسْقَى، فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِقَدَحٍ فِضَّةٍ فَرَمَاهُ بِهِ، فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَرْمِهِ إِلَّا أَنِّي نَهَيْتُهُ فَلَمْ يَنْتَهِ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نهَانَا عَنِ الحَرِيرِ وَالدِيبَاجِ، وَالقُرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَقَالَ هُنَّ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهِيَ لَكُمْ فِي الآخِرَةِ (بخاری کتاب الاشربة باب الشرب في آنية الذهب 5632) ابن ابی لیلی بیان کرتے ہیں کہ حضرت حذیفہ بن یمان مدائن میں تھے۔انہوں نے پانی مانگا تو ایک کسان ان کے پاس چاندی کا پیالہ لایا۔آپ نے وہ پیالہ اس پر پھینک دیا اور کہنے لگے۔میں نے اسے نہیں پھینکا مگر اس لئے کہ میں نے اس کو روکا ہے اور وہ رکا نہیں اور نبی صلی الینکم نے ریشمی کپڑوں اور دیباج اور سونے چاندی کے برتن میں پینے سے ہمیں روکا اور فرمایا یہ چیزیں دنیا میں ان کے لئے ہیں اور وہ آخرت میں تمہارے لئے ہوں گی۔