حدیقۃ الصالحین — Page 624
624 فَقَالَ خُذْهُ إِذَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا المَالِ شَيْ: وَأَنتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا فَلَا تُتَّبِعْهُ نَفْسَكَ (بخارى كتاب الزكاة باب من اعطاه الله شيئا من غير مسالة و لا۔۔۔1473) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرؓ سے سنا۔وہ کہتے تھے رسول اللہ صلی علیکم مجھے وظیفہ دیتے تو میں کہتا آپ اُن کو دیجئے جو مجھ سے زیادہ اس کے محتاج ہوں تو آپ فرماتے اس مال میں سے جب کچھ تمہارے پاس آئے تو اُسے ایسی حالت میں لے لو جبکہ تم نہ خواہشمند ہو اور نہ سائل اور جو نہ ملے تو اپنے نفس کو اُس کے پیچھے مت لگاؤ۔عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْطِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْعَطَاءَ، فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ : أَعْطِهِ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْهُ فَتَمَوَّلَهُ أَوْ تَصَدَّقُ بِهِ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا ، فَلَا تُتَّبِعْهُ نَفْسَكَ قَالَ سَالِمٌ : فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلَا يَرُدُّ شَيْئًا أُعْطِيَهُ (مسلم کتاب الزكاة باب اباحة الاخذ لمن اعطى من غير مسالة۔۔۔1718) سالم بن عبد اللہ بن عمرؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی یی کم حضرت عمرؓ کو کچھ عطا فرماتے تو حضرت عمر آپ سے عرض کرتے یار سول اللہ ! اسے اس شخص کو عطا فرما دیں جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورتمند ہے۔رسول اللہ صلی علی کریم نے ان سے فرمایا یہ لے لو اور اس سے مالی فائدہ اٹھاؤ یا اس کو صدقہ کر دو اور وہ مال جو تمہیں بغیر حرص کے اور بن مانگے ملے اولے اور نہ اس کے پیچھے مت پڑو۔سالم کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر اسی وجہ سے کسی سے کوئی چیز نہیں مانتے تھے اور جو چیز آپ کو دی جاتی اسے رڈ نہیں کرتے تھے۔