حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 625 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 625

625 796 - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْن تَغْلِبَ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي بِمَالٍ - أَوْ سَبي فَقَسَمَهُ، فَأَعْطَى رِجَالًا وَتَرَكَ رِجَالًا، فَبَلَغَهُ أَنَّ الَّذِينَ تَرَكَ عَتَبُوا، فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ أَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ، وَأَدَعُ الرَّجُلَ، وَالَّذِي أَدَعُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِي أُعْطِى، وَلَكِنْ أُعْطِي أَقْوَامًا لِمَا أَرَى فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الجَزَعِ وَالهَلَعِ، وَأَكُلُ أَقْوَامًا إِلَى مَا جَعَلَ اللهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الغِنَى وَالخَيْرِ، فِيهِمُ عَمْرُو بْن تَغْلِبَ فَوَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحمرٌ النَّعَمِ (بخاری کتاب الجمعة باب من قال فى الخطبة بعد الثناء اما بعد923) حضرت عمرو بنت تغلب نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال یا کوئی چیز لائی گئی۔آپ نے وہ بانٹ دی۔آپ نے بعض آدمیوں کو دیا اور بعض کو نہ دیا۔پھر آپ کو یہ خبر پہنچی کہ جن لوگوں کو آپ نے چھوڑ دیا تھا۔وہ کچھ ناراض ہیں۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور اس کی تعریف کی۔پھر فرمایا اما بعد ، اللہ کی قسم ! میں ایک شخص کو دیتا ہوں ( اور ایک شخص کو چھوڑ دیتا ہوں) اور حالانکہ جسے چھوڑ تا ہوں۔وہ مجھ کو زیادہ پیار ا ہوتا ہے بہ نسبت اس کے جسے میں دیتا ہوں۔لیکن میں بعض لوگوں کو اس لئے دیتا ہوں کہ ان کے دلوں میں بے چینی اور بے صبری دیکھتا ہوں اور بعض لوگوں کو اس سیر چشمی اور بھلائی کے حوالہ کر دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں پیدا کی ہوتی ہے۔انہی لوگوں میں عمرو بن تغلب بھی ہیں ( یہ کہتے تھے ) بخدا! میں ہر گز پسند نہیں کرتا که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کے مقابل میں مجھے سرخ اونٹ ملتے۔797- عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي قَالَ لَمَّا أَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَى مِنْ تِلْكَ الْعَطَايَا فِي قُرَيْشٍ وَقَبَائِلِ الْعَرَبِ ، وَلَمْ يَكُنْ فِي الْأَنْصَارِ مِنْهَا شَيْءٌ وَجَدَ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي أَنْفُسِهِمْ، حَتَّى كَثُرَتْ فِيهِمُ الْقَالَةُ حَتَّى قَالَ قَائِلُهُمْ: لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمَهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا الْحَقِّ قَدْ