حدیقۃ الصالحین — Page 621
621 حضرت حنظلہ الأسيدي جو رسول اللہ صلی علی یکم کے کاتبوں میں سے تھے بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر مجھے ملے اور کہا حنظلہ تم کیسے ہو ؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔حضرت ابو بکر نے کہا سبحان اللہ ! یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔حضرت حنظلہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی علیکم کے پاس ہوتے ہیں تو آپ ہمیں دوزخ اور جنت یاد کراتے ہیں یہانتک کہ گویا وہ ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں لیکن جب ہم رسول اللہ صلی الیکم کے پاس سے نکلتے ہیں اور بیوی بچوں اور جائیدادوں میں مشغول ہوتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔اس پر حضرت ابو بکرؓ نے کہا کہ اللہ کی قسم! ہم پر بھی یہی گذرتی ہے۔وہ کہتے ہیں پھر میں اور حضرت ابو بکر چل پڑے یہانتک کہ ہم رسول اللہ صلی الی یکم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔میں نے عرض کیا یار سول اللہ ! حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔اس پر رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو آپ ہمیں دوزخ اور جنت یاد کر ا دیتے ہیں یہانتک کہ گویا وہ ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں لیکن جب ہم آپ کے پاس سے جاتے ہیں اور بیوی بچوں اور جائیدادوں میں پڑ جاتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ نیلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہو جس میں تم میرے پاس ہوتے ہو اور ذکر میں ہوتے ہو تو ضرور فرشتے تمہارے بچھونوں پر اور تمہارے راستوں میں تم سے مصافحہ کرتے لیکن اسے حنظلہ ! یہ وقت وقت کی بات ہے۔یہ آپ نے تین دفعہ فرمایا۔