حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 622 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 622

622 قناعت اور سادگی 792ـ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مِحْصَنٍ الخَطْمِي، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَتْ لَهُ مُحْبَةٌ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ مُعَافًى فِي جَسَدِهِ يَمْلِكُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا (ترمذى كتاب الزهد باب فى توكل على الله 2346) حضرت عبید اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے فرمایا جس شخص نے دلی اطمینان اور جسمانی صحت کے ساتھ صبح کی اور اس کے پاس ایک دن کی خوراک ہے اس نے گویا ساری دنیا جیت لی اور اس کی ساری نعمتیں اسے مل گئیں۔793 - سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبْلِي، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ أَلَسْنَا مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَلَكَ امْرَأَةٌ تَأْوِى إِلَيْهَا ؟ قَالَ نَعَمْ، قَالَ أَلَكَ مَسْكَنَ تَسْكُنُهُ ؟ قَالَ نَعَمْ، قَالَ فَأَنْتَ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ، قَالَ فَإِنَّ لِي خَادِمًا، قَالَ فَأَنتَ مِنَ الْمُلُوكِ (مسلم کتاب الزهد والرقائق باب الدنيا سجن للمومن وجنة الكافر 5276) ابو عبد الرحمان مخبلی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص کو کہتے ہوئے سناجب ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ کیا ہم درویش مہاجرین میں سے نہیں ہیں ؟ تو حضرت عبد اللہ نے اس سے کہا کیا تمہاری بیوی ہے جس کے پاس تم رہتے ہو ؟ اس نے کہا ہاں انہوں نے کہا کیا تمہارا گھر ہے جس میں تم رہ سکو ؟ اس نے کہا ہاں۔انہوں نے کہا پھر تو تم اغنیاء میں سے ہو۔اس نے کہا میرا تو خادم بھی ہے۔انہوں نے کہا پھر تو تم بادشاہوں میں سے ہو۔