حدیقۃ الصالحین — Page 619
619 کو اُس کا حق دے۔حضرت ابو دردائے نبی صلی ایم کے پاس آئے اور آپ سے اس بات کا ذکر کیا تو نبی صلی یکم نے اُن سے فرمایا سلمان نے سچ کہا ہے۔789۔عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى شَيْخًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، قَالَ مَا بَالُ هَذَا ؟ ، قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِي، قَالَ إِنَّ اللهَ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ (بخاری کتاب جزاء الصيد باب من نذر المشى الى الكعبة 1865) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔(انہوں نے کہا) نبی صلی لینکم نے ایک بوڑھے کو دیکھا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان سہارا لئے چلا جارہا ہے۔آپؐ نے فرمایا اس کی یہ کیا حالت ہے ؟ انہوں نے کہا اس نے نذر مانی تھی کہ وہ (حج کیلئے ) پیدل جائے گا۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تو اس بات سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنے تئیں دکھ میں ڈالے اور آپ نے اس سے فرمایا سوار ہو جاؤ۔790 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ كَمَا يُحِبُّ أَن تُوَلَّى عَزَائِمُهُ (صحیح ابن حبان ، کتاب الصوم ، باب صوم المسافر ، ذِكْرُ الْخَبَرِ الدَّانِ عَلَى أَنَّ الْإِفْطَارَ فِي السَّفَرِ أَفْضَلُ مِنَ الصَّوْمِ 3568) حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو یہ بات بڑی پسند ہے کہ اس کی طرف سے دی ہوئی رخصت پر عمل کیا جائے اور اس رعایت سے فائدہ اٹھایا جائے جس طرح اسے یہ بات پسند ہے کہ (اگر کوئی عذر نہ ہو تو ) عزیمت اور اصل حکم عمل کیا جائے ( تعمیل حکم اور رعایت کے موقع پر رعایت سے فائدہ اٹھانا یہی حقیقی فرمانبرداری ہے)۔