حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 607 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 607

607 ابن اعبد کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے مجھے بتایا کیا میں تمہیں اپنے متعلق اور رسول اللہ صلی علیم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ کے متعلق نہ بتاؤں جو آپ کو اپنے اہل و عیال میں سب سے زیادہ محبوب تھیں۔میں نے عرض کیا کیوں نہیں۔حضرت علیؓ نے فرمایا کہ حضرت فاطمہ چکی چلاتی تھیں یہاں تک کہ (اس کام نے ) ان کے ہاتھ پر نشان ڈال دیے اور مشکیزہ کے ذریعہ پانی لاتی تھیں یہاں تک کہ اس نے ان کے سینہ پر نشان ڈال دیا اور وہ گھر میں جھاڑو دیتیں یہاں تک کہ ان کے کپڑے غبار آلود ہو جاتے۔نبی صلی علیم کے پاس کچھ خادم آئے۔میں نے کہا تم اگر اپنے ابا کے پاس جاؤ اور اُن سے خادم مانگو۔وہ آپ کے پاس گئیں اور آپ کے پاس متعدد بات چیت کرنے والے پائے تو وہ واپس آگئیں۔آپ دوسرے دن ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہارا کیا کام تھا ؟ وہ خاموش رہیں۔تو میں نے کہا میں بتاتا ہوں یارسول اللہ !۔وہ چکی چلاتی ہیں یہاں تک کہ اس نے ان کے ہاتھ پر نشان ڈال دیا ہے اور مشکیزہ اٹھاتی ہیں یہاں تک کہ اُس نے انکے سینہ پر نشان ڈال دیا ہے۔پس جب آپ کے پاس خادم آئے تو میں نے ان کو کہا کہ آپ کے پاس جائیں اور آپ سے ایک خادم چاہیں جو ان کو اس مشقت سے بچائے جس میں وہ ہیں۔آپ نے فرمایا اے فاطمہ ! اللہ کا تقویٰ اختیار کر واور اپنے رب کا فریضہ ادا کرو اور اپنے گھر والوں کا کام کرو۔جب تم بستر پر جاؤ تو تینتیس دفعہ تسبیح کرو اور تینتیس دفعہ حمد کرو اور چونیتس دفعہ اللہ اکبر کہو۔یہ سو 100 ہوئے وہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔انہوں نے کہا میں اللہ اور اُس کے المدرسة رسول صلی یہ کام پر راضی ہوں۔774- عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ، وَالسُّفْلَى السَّائِلَةُ (مسلم کتاب الزكاة باب بيان ان اليد العليا خير من اليد السفلى۔۔۔1701)