حدیقۃ الصالحین — Page 47
47 تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامُ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ (الجامع الترمذی کتاب صفة القيامة باب ما جاء في اواني الحوض (2485 حضرت عبد اللہ بن سلام بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ جوق در جوق آپ کی خدمت میں پہنچے۔اور کہا گیار سول اللہ صلی الی یوم تشریف لائے، رسول اللہ صلی ال م تشریف لائے ، رسول الله على ولم تشریف لائے۔میں بھی ان لوگوں میں شامل ہو کر آیا کہ آپ کو دیکھوں۔جب میں نے رسول اللہ صلی اللی کم کا چہرہ مبارک دیکھا تو میں جان گیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔پہلی بات جو رسول اللہ صلی الیم نے اس موقع پر فرمائی اے لوگو! سلام کو عام کرو، ضرورت مندوں کو کھاناکھلاؤ، رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو اور جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو نماز پڑھو۔اگر تم ایسا کرو گے تو تم امن اور سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔31 - عَنْ الزُّهْرِي سَمِعَ مُحَمَّدَ بْن جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال أنا محمد وأنا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِى يُمحى في الكُفْرُ وَأَنَا الْحَافِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى عَلِي وَأَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ (مسلم کتاب الفضائل باب فى اسمائه صلى اللہ علیہ وسلم 4328) صحیح مسلم کے اسی باب کی اگلی روایت میں یہ وضاحت ہے کہ " وَ الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِي “ امام زہری کی تشریح ہے۔وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ قَالَ قُلْتُ لِلزُّهْرِي وَمَا الْعَاقِبُ قَالَ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ (مسلم كتاب الفضائل باب في اسمائه صلى الله علیہ وسلم 4329) ترجمہ: عقیل کی روایت میں ہے کہ میں نے زہری سے کہا عاقب سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔