حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 593 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 593

593 753 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَسَمِعَ صَوْتًا فِي سَحَابَةٍ: اسْقِ حَدِيقَةً فُلَانٍ، فَتَنَغَى ذَلِكَ السَّحَابُ، فَأَفْرَغَ مَاءَهُ فِي حَرَّةٍ، فَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشَّرَاجِ قَدِ اسْتَوَعَبَتْ ذَلِكَ الْمَاءَ كُلَّهُ، فَتَتَبَّعَ الْمَاءَ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي حَدِيقَتِهِ يُحَزِلُ الْمَاءَ بِمِسْعَاتِهِ، فَقَالَ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا اسْمُكَ ؟ قَالَ فُلَانٌ - لِلِاسْمِ الَّذِى سَمِعَ فِي السَّحَابَةِ - فَقَالَ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ لِمَ تَسْأَلُنِي عَنِ اسْمِي؟ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ صَوْتًا فِي السَّحَابِ الَّذِى هَذَا مَاؤُهُ يَقُولُ اسْقِ حَدِيقَةٌ فُلَانٍ، لِاسْمِكَ، فَمَا تَصْنَعُ فيها ؟ قَالَ أَمَّا إِذْ قُلْتَ هَذَا، فَإلي أنظرُ إلَى مَا يَخْرُجُ مِنهَا، فَأَتَصَدَّقُ بِخُلُقِهِ، وَاكُل أنا وَعِيَالِي ثُلُيًّا، وَأَرُدُّ فِيهَا ثُلُثَهُ (مسلم کتاب الزهد والرقائق باب الصدقة في المساكين (5285) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ ﷺ نے فرمایا ایک بار ایک شخص ایک ویرانہ میں تھا۔اس نے ایک بدلی میں سے آواز سنی کہ فلاں کے باغ کو سیراب کر۔وہ بادل ایک طرف ہو گیا اور اپنا پانی ایک پتھریلی زمین پر برسایا ان نالیوں میں سے ایک نالی نے سارا پانی سمیٹ لیا وہ پانی کے پیچھے پیچھے چلنے لگا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص اپنے باغ میں کھڑا اپنی کسی سے پانی کا رخ بدل رہا ہے۔اس نے اسے کہا اے اللہ کے بندے! تیرا کیا نام ہے ؟ اس نے بتا یا فلاں ، تو وہ وہی نام تھا جو اس نے بدلی میں سنا تھا پھر اس نے کہا اے اللہ کے بندے! تو میر انام کیوں پوچھتا ہے؟ اس نے کہا میں نے اس بادل سے جس کا یہ پانی ہے ایک آواز سنی تھی جو تیر انام لے کر کہہ رہی تھی کہ فلاں کے باغ کو سیر اب کر۔تو اس میں کیا کرتا ہے ؟ اس نے کہا کیونکہ تم نے پوچھا ہے تو بات یوں ہے کہ جو اس میں سے پیداوار ہوتی ہے۔میں اس کا جائزہ لیتا ہوں اور ایک تہائی صدقہ کر دیتا ہوں اور ایک تہائی میں اور میرے اہل و عیال کھاتے ہیں اور ایک تہائی اس (باغ ) میں لوٹا دیتا ہوں۔